2021 کی عدلیہ مخالف مہم میں کون ملوث تھا؟

وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر عدلیہ، ججوں کیخلاف ٹرینڈز چلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاکہ پتا لگایا جا سکے کہ ان ٹرینڈز کو بنانے اور پرموٹ کرنے والے کون لوگ تھے، اس مقصد کیلئے متعلقہ اداروں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔نگراں وزیرِ اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے ایف آئی اے اور پی ٹی اے حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ججوں کے خلاف گھٹیا اور غلیظ مہم شروع کرنے والوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جبکہ ڈائریکٹر آپریشنز ایف آئی اے وقار الدین نے بتایا کہ 500 سے زیادہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی ہے، مزید کی نگرانی جاری ہے اور سب کو قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر آٹھ نومبر 2021 کی صبح تقریبا نو بجے پاکستان کی عدلیہ اور ججز کے خلاف #لعنتی عدلیہ **ججز کے نام سے ایک ہیش ٹیگ بنایا جاتا ہے، جس میں عدلیہ اور ججز کے خلاف ٹوئٹس آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ آٹھ اور نو نومبر کو یہ ٹرینڈ پاکستان کے ٹاپ پانچ ٹرینڈز میں شامل ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس وقت عدلیہ کے خلاف ٹرینڈ بنانے کا ممکنہ مقصد کیا ہو سکتا ہے۔ اس کی کڑی ممکنہ طور پر عمران خان کی پانچ نومبر 2021 کو اٹک میں ایک تقریر بھی ہوسکتی ہے جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ شوگر ملز مافیا کے خلاف حکومت اس لیے کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ انہوں نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا ہوا ہے۔آٹھ نومبر2021 کو پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل نے ایکس پر لکھا، ’ایک طرف اکیلا عمران خان کھڑا ہے اور دوسری طرف تمام مافیا اکھٹا ہوچکا ہے۔ٹرینڈز میپ کی رپورٹ کے مطابق اس ایک ہفتے کے دوران عدلیہ کے خلاف ایکس پر اس ٹرینڈ میں مجموعی طور پر 19 ہزار سے زائد پوسٹس کی گئیں جن میں ری ٹویٹس کی تعداد 17 ہزار سے زیادہ تھیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اس ہیش ٹیگ میں فی منٹ کے حساب سے تقریبا 72 ٹویٹس کی گئیں۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس ٹرینڈ میں سب سے زیادہ 15609 ٹویٹس آٹھ نومبر کو کیے گئے جس کے اگلے روز 400 جبکہ 10 نومبر کو اس ہیش ٹیگ میں 180 ٹویٹس کیے گئے جن اکائونٹس عدلیہ مخالف ٹرینڈ میں حصہ لیا ان میں زیادہ تر معطل ہیں۔ان اکاونٹس کی پوسٹس سے بظاہر ایسا لگتا تھا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے حامی ہیں تاہم یہ پی ٹی آئی کے آٓفیشل اکاؤنٹس نہیں تھے۔انڈپینڈنٹ اردو نے جب ان اکاؤنٹس کی جانب سے ایکس پر شیئر کیے گئے مواد کا جائزہ لیا تو اس میں دو ٹاپ کے اکاؤنٹس (pakistanarmyz10 اور@arfanahmad28) وہی اکاؤنٹس تھے جو پاکستان کے خاتون صحافی عاصمہ شیرازی کے خلاف کچھ عرصہ پہلے ایک ٹرینڈ چلانے میں بھی پیش پیش تھے۔ان دونوں اکاؤنٹس کا ہینڈل تو تبدیل ہوگیا تھا لیکن ڈسپلے میں ایک ہی نام لکھا تھا جس بظاہر لگتا تھا کہ یہ دونوں اکاؤنٹس ایک ہی شخص چلا رہا ہے۔ان تینوں اکاؤنٹس کی جب مزید تحقیق کی گئی تو ٹرینڈ میپ کی رپورٹ کے مطابق ان کی جانب سے جتنے بھی ٹرینڈز میں حصہ لیا گیا ہے تو وہ زیادہ تر ایک خاص سیاسی نظریے (پی ٹی آئی ) کے حق میں تھے۔ عدلیہ کے خلاف ٹرینڈ میں حصہ لینے والے سرگرم اکاونٹ نے ماضی میں جن ٹرینڈز میں حصہ لیا ان میں #westandwithfawadchaudhry،#امت_کا_ترجمان_عمران_خان،#خونی _لبرلز_بےلگام شامل تھے۔ ایکس پر @pakistan63438394 جب فعال تھا تو اگر اسے دیکھا جاتا تو ڈسپلے پر پی ٹی آئی کے جھنڈے لگے ہوئے تھے اور یہ اکاؤنٹ گذشتہ سال جون میں بنایا گیا تھا جس کے صرف 91 فالورز تھے اور یہ محض نو صارفین کو فالو کر رہا تھا جس میں عمران خان کا آفیشل اکاؤنٹ، وزیر اعظم ہاؤس کا آفیشل ہینڈل، صحافی کامران خان، بی بی سی اردو، صحافی عمران خان کے اکاؤنٹس شامل تھے۔ اس اکاؤنٹ کی جانب سے زیادہ تر مواد پی ٹی آئی کے حق میں شیئر کیے جاتے تھے۔اب عدلیہ کے خلاف ہیش ٹیگ میں حصہ لینے والے دوسرے اہم اکاؤنٹس @arfanahmad28 کا بھی تجزیہ کرتے ہیں۔ ان اکاؤنٹس میں ایڈریس لاہور لکھا گیا ہے جبکہ یہ اپریل 2019 میں بنایا گیا تھا اور اکاؤنٹ کے فالورز کی تعداد 3639 تھی جبکہ یہ اکاؤنٹ 4990 صارفین کو فالو کر رہا تھا اور اسی کے ساتھ ہی عدلیہ کے خلاف ٹرینڈ میں تیسرے نمبر پر ٹاپ اکاؤنٹ @pakistanarmyz10تھا جو عرفان آحمد کے نام سے ہی بنایا گیا تھا۔تیسرے نمبرپر آنے والے اکاؤنٹ کے کور فوٹو پر اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی تصویر لگی تھی اور ساتھ عدلیہ کے خلاف ٹرینڈ میں دوسرے نمبر پر سرگرم اکاؤنٹ @arfanahmad28کا ہینڈل درج تھا جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں اکاؤنٹس ایک ہی شخص کے تھے تاہم انڈپینڈنٹ اردو کے تحقیق کے مطابق یہ پی ٹی آئی کے کوئی باضابطہ اکاونٹس نہیں تھا۔اسد بیگ میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی نامی غیر سرکاری ادارے کے سربراہ ہیں اور پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا رائٹس اور جعلی (فیک) خبروں کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے سرگرم ہیں۔انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان میں بہت کم آبادی کو انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے اور یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی پروپیگینڈا کچھ آبادی کو پہنچ جاتا ہے۔پاکستان میں دیگر سیاسی پارٹیوں کے ناموں سے بننے سوشل میڈیا اکاونٹس بھی عدلیہ کے خلاف وقتا فوقتا استعمال ہوتے رہے ہیں، مسلم لیگ ن نے تو ججز کے نام لے کر ان پر کھل کر تنقید بھی ہے۔

Back to top button