23 مارچ کو یوم جمہوریہ اب کیوں نہیں منایا جاتا؟

پاکستان میں 23 مارچ کو یوم پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے اور اسلام آباد میں فوجی پریڈ کا اہتمام کیا جاتا ہے تاہم سچ یہ ہے کہ 23 مارچ 1956 کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا اور اس دن کو یوم جمہوریہ قرار دیا گیا تھا۔ لیکن اب یہ دن فوجی پریڈ کے حوالے سے جانا جاتا یے۔

1956 سے 1958 تک تین سال 23 مارچ کو یوم جمہوریہ کے طور پر منایا جاتا رہا لیکن پھر 8 اکتوبر 1958 کو مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ جمہوریت سے نفرت کرنے والے فوجی حکمران ایوب خان نے یوم جمہوریہ کا نام بدل کر اسے 23 مارچ 1940 کی قرارداد پاکستان کی مناسبت سے یوم پاکستان میں تبدیل کر دیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ اس روز ایک فوجی پریڈ ہوا کرے گی۔ آج 63 سال گزر جانے کے بعد بھی 23 مارچ کو یوم جمہوریہ کے بجائے یوم پاکستان کے طور پر منایا جارہا ہے اور کسی سویلین حکومت کو توفیق نہیں ہوئی کہ اس معاملے پر نظر ثانی کرے۔ ناقدین کا کہنا یے کہ عام طور پر فوجی پریڈز کا انعقاد غیرجمہوری یا آمرانہ ادوار میں ہوتا ہے تاکہ عوام پر فوج کا دبدبہ قائم و دائم رکھا جاسکے۔ ہر سال کی طرح اس برس بھی 23 مارچ کو اسلام آباد میں یوم پاکستان کی مناسبت سے فوجی پریڈ کا اہتمام کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس کورونا وائرس کی وجہ سے اس تقریب کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا تھا اور وبا کے خطرات سے عوام کو محفوظ رکھنے کی خاطر حکومت نے پریڈ منسوخ کر دی تھی۔ اگرچہ ابھی پاکستان اس وائرس کی تیسری لہر کی لپیٹ میں ہے اور اس سے کاروبارِ زندگی بھی متاثر ہوا ہے مگر اس بار فوجی پریڈ کی تیاریاں زور و شور سے کی جاری ہیں جس کی کوئی خاص وجہ سمجھ نہیں آتی۔

یاد رہے کہ مارچ 2008 سے مارچ 2015 کے دوران آصف زرداری کے پانچ برس کے دور اقتدار اور نواز شریف حکومت کے دو برسوں میں 23 مارچ کی پریڈ منعقد نہیں ہوئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ آئے روز دہشت گردی کی وجہ سے درپیش سکیورٹی خدشات تھے۔ اس دور میں قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے دہشت گرد مسلسل حملے کررہے تھے۔ تاہم یوم پاکستان پر مسلح افواج کی پریڈ کی قومی روایت مارچ 2015 میں نواز شریف کے دور اقتدار میں پھر سے بحال کر دی گئی۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس مرتبہ ‘یوم پاکستان پریڈ’ کے انعقاد کا مقصد دنیا اور اپنے عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندوں سے لڑائی کے بُرے دن گزر گئے اور ہم معمول کی زندگی کی طرف اب واپس لوٹ آئے ہیں۔ اس روز پاکستان کی تینوں مسلح افواج یعنی بری فوج، فضائیہ اور بحریہ کے علاوہ اسٹرٹیجک فورسز اپنی فوجی قوت کا اظہار کریں گی۔ پریڈ دیکھنے والوں میں فوجی حکام، سفارت کار، حکومتی شخصیات اور سیاسی رہنما شامل ہوں گے۔

گزشتہ پانچ سال کے دوران ‘یوم پاکستان پریڈ’ اسلام آباد ایکسپریس وے کے نام سے مشہور شاہراہ کے کنارے پر واقع شکرپڑیاں گراونڈ میں منعقد ہوتی ہے۔

30 برس سے زائد عرصہ تک مسلح افواج کی پریڈ کے انعقاد کے مقامات مسلسل تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ اس پریڈ کا اصل مقام پہلے راولپنڈی کا ریس کورس گراؤنڈ ہوا کرتا تھا جو بعد میں تبدیل ہوکر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور پر منتقل ہوگیا۔ انڈیا بھی اس روایت پر عمل پیرا ہے جو ہر سال 26 جنوری کو یوم جمہوریہ پر پریڈ منعقد کرتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1950 میں انڈین آئین بنا تھا۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور کے مینار پاکستان پر منظور ہونے والی تاریخی قرارداد پاکستان کی یاد منانے کے علاوہ اس دن پاکستان کی مسلح افواج اپنی جنگی قوت اور طاقت کا اظہار بھی کرتی ہیں۔

سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد نعیم لودھی نے بتایا کہ رواں برس پاکستان ڈے پریڈ کے پوری دنیا اور پاکستان کےلیے مجموعی طور پر دو پیغامات ہیں ایک یہ کہ دہشت گردی کا دور ختم ہوا اور اب پاکستان مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاری کےلیے تیار ہے۔ آئیں پاکستان دیکھیں، یہ مستحکم ہے اور ہم نے دہشت گردی کو شکست دے دی ہے۔۔۔

دوسرا پیغام یہ ہے کہ یہ ایک بڑی فوج ہے جو قومی تعمیر میں شرکت کےلیے تیار ہے۔ یہ محض میری رائے نہیں، یہ آرمی میں اکثریت لوگوں کا نکتہ نظر ہے۔`

سابق سیکریٹری دفاع خالد نعیم لودھی کے مطابق پاکستان ڈے پریڈ پر تین طرح کے لوگ توجہ کا محور ہوتے ہیں۔ سرفہرست ہمارے اپنے عوام ہوتے ہیں جنہیں پاک فوج یہ بتانا چاہتی ہے کہ ملک کا دفاع محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اس پہلو کو تیاری کے مظاہرے، موجود ہتھیاروں اور اعلیٰ جذبے کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔

دوسرے نمبر پر وہ دشمن ہوتا ہے جسے ہم اپنے مقامی طورپر تیار کردہ اسلحہ کے نظام، میزائل اور دیگرہتھیاروں کے مظاہرے سے آگاہ کرتے ہیں کہ ہم کسی بھی قسم کی جارحیت سے نمٹنے کےلیے پوری طرح سے تیار ہیں۔ بعض اوقات ہم اسلحہ سازی کے شعبے میں ہونے والی ترقی و پیش رفت کو بھی اس کے ذریعے سامنے لاتے ہیں جو عوامی سطح پر پہلے معلوم نہیں ہوتی۔

پریڈ کا تیسرا ہدف دوست ممالک ہوتے ہیں۔ ہم ان کے دستے پریڈ میں بلاتے ہیں، ہم مل کر تیار کردہ اسلحہ کی نمائش کرتے ہیں اورانہیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستانی قوم ہمارے دفاع کےلیے ان کی کاوشوں کا اعتراف کرتی ہے۔

ماضی میں پاک فوج اس پریڈ میں مقامی طور پر تیار ہونے والے اپنے اسلحہ اور ہتھیاروں کی نمائش کرتی آئی ہے جن میں الخالد ٹینک اور شاہین و غوری جیسے بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔ پاک فوج فخر سے بیان کرتی ہے کہ 23 مارچ کو پریڈ میں اپنے جنگی ہتھیاروں کی نمائش کرنا کس طرح سے ایک روایت بن چکی ہے۔

پاکستان ڈے پیریڈ کی سیاسی اور اسٹریٹیجک اہمیت کے حوالے سے سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری نے بتایا کہ یہ تاریخ درحقیقت قرارداد پاکستان کی منظوری کی مناسبت سے اہمیت رکھتی ہے اور پاکستان مسلم لیگ اسے ہر سال منایا کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 23 مارچ 1956 کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا اور اس دن کو یوم جمہوریہ قرار دے دیا گیا۔ اگلے تین سال اسے یوم جمہوریہ کے طور پر منایا جاتا رہا پھر 8 اکتوبر 1958 کو ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ حسن عسکری کے مطابق اس کے بعد آرمی کے لوگوں نے اسے 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان کی منظوری کی مناسبت سے یوم پاکستان میں تبدیل کر دیا۔ ضیا دور کے دوران یوم پاکستان پر فوجی پریڈ ہونا ایک معمول بن گیا۔ ڈاکٹر عسکری کے مطابق اس فوجی پریڈ نے اب فوجی اور اسٹرٹیجک اہمیت اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف اس قومی دن کو مناتے ہیں بلکہ اس روز اپنی فوجی قوت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1965 کی جنگ کے بعد چینی ہتھیار خاص طور پر لڑاکا طیارے پاکستان آئے اور انہیں 23 مارچ 1966 کی پریڈ میں پہلی بار نمائش کےلیے پیش کیا گیا۔

بالی ووڈ کے بھائی جان کو جان لینے کی دھمکیاں

Back to top button