خیبرپختونخوا کی مخصوص نشستوں پر25ارکان نےحلف اٹھا لیا

گورنرخیبرپختونخوافیصل کریم کنڈی نے پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر خیبرپختونخوا کی مخصوص نشستوں پر25ارکان سے حلف لے لیا۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں پر ارکان سے حلف لینے کے لیے گورنر کو نامزد کیا، جس کے بعد گورنر ہاؤس پشاور میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا گیا، جس کے بعد گورنر نے 25 مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان سے حلف لیا۔
ان ارکان نے اس سے قبل رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کے پاس حلف نہ ہونے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس کورم کی نشاندہی کے باعث ملتوی ہوا تھا، جس کے باعث ارکان حلف نہیں لے سکے تھے۔
الیکشن کمیشن نے بھی اس صورتحال پر پشاور ہائیکورٹ کو مراسلہ ارسال کیا تھا، جس میں عدالت سے حلف برداری کے لیے اقدامات کی درخواست کی گئی۔
الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اگر منتخب ارکان نے حلف نہ لیا تو سینیٹ انتخابات کا انعقاد مشکل ہو جائے گا، اس لیے چیف جسٹس ایک نمائندہ نامزد کریں جو ارکان سے حلف لے سکے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس موقع پر کہا کہ منتخب ارکان کو حلف سے روکنا شرمناک عمل ہے، حلف لینا ان کا آئینی حق ہے، اور اس میں رکاوٹ افسوسناک ہے۔
انہوں نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایک بار پھر جمہوری نظام کا مذاق بنایا، مگر جمہوریت کو ہر صورت قائم رکھنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ حلف برداری کا اختیار دیا، اور جمہوریت کی توقیر کو پامال ہونے نہیں دیں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف نے آئینی عمل میں رکاوٹ ڈال کر خود کو بے نقاب کیا۔
اس سے قبل، خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد شروع ہوا، مگر حکومتی رکن شیر علی آفریدی نے کورم کی نشاندہی کر دی، جس کے باعث اجلاس 24 جولائی کی دوپہر تک ملتوی کر دیا گیا۔
مخصوص نشستوں پر ارکان کا حلف نہ ہونے سے سینیٹ کے انتخابات خطرے میں پڑ گئے تھے۔
الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق، سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے، اور پولنگ عملہ اسمبلی میں جا کر صورتحال کے مطابق فیصلہ کرے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری کردہ انتخابی شیڈول پر ہر حال میں عمل کیا جائے گا۔
