26 ہزار ایکڑ چلغوزے کے جنگلات کی آگ کیوں نہیں بجھ رہی؟


ایک جانب موسم سرما کی سوغات چلغوزہ پہلے ہی بیش قیمت ہونے کی وجہ سے عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں تو دوسری طرف خیبر پختونخوا سے متصل ضلع شیرانی میں چلغوزے کے سب سے بڑے جنگل میں لگنے والی آگ نے ہزاروں ایکڑ پر پھیلے باغات کو بُری طرح تباہ کر دیا ہے، چلغوزے کے جنگلات میں لگنے والی آگ 10 روز بعد بھی بجھائی نہیں جا سکی اور اگر اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات کی پناہ گاہیں مکمل طور پر ختم ہو جائیں گی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس آگ سے اب تک درجنوں جانوروں کے علاوہ تین مقامی افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ضلع شیرانی کے ڈپٹی کمشنر شیرانی نے بتایا ہے کہ آگ شرغلی میں ایسے پہاڑی علاقوں میں لگی ہے جن کی بلندی اندازاًپانچ ہزار فٹ ہے، اس علاقے میں چلغوزے کے جنگلات ہیں جو آگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں، ان کے مطابق آگ کو بجھانا اس لیے مشکل ہے کہ چلغوزے کے جنگلات پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہیں۔ چلغوزے کا شمار خشک فروٹ میں ہوتا ہے جن کی قیمت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بہت زیادہ ہے، اعلیٰ کوالٹی کے چلغوزے کی فی کلو کی قیمت اب بھی 7 ہزار روپے فی کلو سے زائد ہے۔ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تحریک اشر سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں نے بتایا کہ آگ بہت بڑے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے، بدقسمتی سے یہ آگ دس روز پہلے تورغر میں لگی تھی جہاں سے یہ آگ شیرانی تک پہنچی اور پھر شیرانی کے مختلف علاقوں تک پھیلنے کے یہ شرغلی تک پہنچ گئی۔

بتایا جاتا ہے اس آگ کی لپیٹ میں آنے والے جنگلات سے ہر سال 650 سے 675 میٹرک ٹن چلغوزہ پیدا ہوتا ہے اور مجموعی طور پر 2.6 ارب روپے مالیت کے چلغوزے کی تجارت ہوتی ہے، ہزاروں لوگوں کے روزگار اور معاش کا انحصار انہی جنگلات پر ہے، مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ یہ جنگلات ہر سال تین ارب ڈالرز کی پیداواری صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ جل کر راکھ ہو رہے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے ایک نہیں بلکہ 15 سے 20 ہیلی کاپٹرز کی ضرورت ہے، علاقے کے مکینوں نے آگ پر فوری قابو پانے میں ناکامی پر احتجاج کیا ہے اور علاقے میں اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں، اشر تحریک کے سالمین خان نے آگ بجھانے کی کوششوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے قومی جانور مارخور کی معروف نسل سلیمان مارخور کی پناہ گاہیں بھی یہی چلغوزے کے جنگلات ہیں۔ نایاب کالا ریچھ اور دیگر جانور بھی انہی جنگلوں کے مکین ہیں۔ اب تک اس آگ سے درجنوں جانوروں کے علاوہ تین انسانی اموات بھی ہوچکی ہیں۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آگ جتنے بڑے پیمانے پر پھیلی ہے اسے بظاہر انسانی کوششوں سے قابو کرنے کے امکانات بہت زیادہ نہیں ہیں، ایسے میں بارش ہی اس اہم اثاثے کو بچانے میں ایک بڑی غیبی مدد ثابت ہو سکتی ہے۔آگ بجھانے کی کارروائی میں پاکستان فوج اور ایف سی کی ٹیمیں بھی بھرپور حصہ لے رہی ہیں، پہاڑوں کے دامن میں متاثرین کے لیے 100 خیموں پر مشتمل سٹی قائم کر کے خوراک اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔

Back to top button