کرکٹ کی تاریخ میں کھیلے گئے یادگار پاک بھارت میچز

 

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچز ہمیشہ ہی توجہ کا مرکز رہتے ہیں، پاک بھارت شائقین کے ساتھ دنیا بھر میں اس مقابلے کو خصوصی طور پر دیکھا جاتا ہے، دونوں ٹیمیں ورلڈ کپ کے دوران کافی مرتبہ آمنے سامنے آ چکی ہیں، نظر ڈالتے ہیں دونوں کے اب تک کے دلچسپ میچوں پر۔دونوں ٹیموں کے درمیان ایک یادگار میچ 18 اپریل 1986 میں کھیلا گیا جس کے دوران پاکستان کو فتح کے لیے 50 اوورز میں 246 رنز درکار تھے اور جب میانداد بیٹنگ کے لیے میدان میں آئے تو 61 رنز پر تین وکٹیں گر چکی تھیں۔ 114 گیندوں پر 116 رنز بنانے والے میانداد پاکستان کو فتح کی دہلیز تک لے گئے اور قومی ٹیم کو آخری گیند پر فتح کے لیے تین رنز درکار تھے اور قومی ٹیم کے اس عظیم بلے باز نے اعصاب شکن مقابلے میں چیتن شرما کو چھکا رسید کر کے پاکستان کو یادگار فتح سے ہمکنار کرا دیا۔عمران خان نے 22 مارچ 1985 کو اپنے ون ڈے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے صرف 14 رنز کے عوض چھ وکٹیں لے کر بھارتی ٹیم کو صرف 125 رنز پر چلتا کر دیا تھا، تاہم ان کی یہ شاندار باؤلنگ رائیگاں گئیں اور پاکستان کی ٹیم صرف 87 رنز بنا کر ڈھیر ہوگئی۔1996 کے ورلڈ کپ کا کوارٹر فائنل بھی چند یادگار پاک بھارت مقابلوں میں سے ایک ہے جس میں بھارت نے فتح سمیٹی تھی، اس میچ میں پاکستانی اوپنرز کی دھواں بیٹنگ آج بھی ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہے لیکن میچ میں اصل فرق اجے جدیجا کی جارحانہ بیٹنگ ثابت ہوئی تھی اور ان کی اسی بیٹنگ کی بدولت بھارت نے 8 وکٹوں کے نقصان پر 287 رنز کا مجموعہ سکور بورڈ پر سجایا تھا۔18 جنوری 1998 کو ڈھاکا میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے سعید انور کے 140 رنز کی بدولت 314 رنز بنائے تھے جس کے بعد ہدف کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی فتح یقینی نظر آتی تھی لیکن اس دن سارو گنگولی کسی اور ارادے سے ہی میدان میں اترے تھے اور انہوں نے 11 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 124 رنز کی شاندار باری کھیلی تھی جس کی بدولت بھارت نے ایک گیند قبل 315 رنز کا ہدف حاصل کر لیا تھا۔سچن ٹنڈولکر نے بھارت کے لیے درجنوں میچز جیتے ہیں لیکن ورلڈ کپ 2003 میں سنچورین کے مقام پر پاکستان کے خلاف کھیلی گئی ان کی جارحانہ باری ان کے کیریئر کی چند یادگار اننگز میں سے ایک ہے۔ پاکستان نے سعید انور کی سنچری کی بدولت پہلے کھیلتے ہوئے 274 رنز کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا تھا لیکن خطرناک موڈ کے ساتھ میدان میں اترنے والے سچن ٹنڈولکر نے شعیب اختر، وقار یونس اور وسیم اکرم پر مشتمل باؤلنگ اٹیک کے خلاف دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 75 گیندوں پر 99 رنز کی اننگز کھیل کر میچ کو یکطرفہ بنا دیا تھا۔چیمپئنز ٹرافی 2017 کا فائنل پاکستان کرکٹ کی جدید تاریخ کا یادگار ترین میچ ہے جہاں پاکستان نے بھارت کو حیران کن طور پر یکطرفہ مقابلے میں شکست دے کر چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، فخر زمان نے فائنل میں 106 گیندوں پر 114 رنز کی باری کھیلے کے ساتھ اظہر علی کے ہمراہ 128 رنز کی اوپننگ شراکت بھی قائم کی تھی جس کی بدولت قومی ٹیم نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 338 رنز بنائے تھے۔

Back to top button