26ویں آئینی ترمیم ،PTIقیادت تنقید کی زد میں کیوں؟

26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کو جہاں حکومت اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے وہیں دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت آئینی ترامیم بارے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود تنقید کی زد میں ہے جہاں ایک طرف فیصل واوڈا جیسے تحریک انصاف کے سابق کھلاڑی پی ٹی آئی قیادت کو بکاؤ مال قرار دے رہے ہیں وہیں شیر افضل مروت جیسے رہنما پی ٹی آئی قیادت پر ماموں بنانے کے الزامات لگا رہے ہیں جب کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اور ان کے حامی وکلاء کی بڑی تعداد موجودہ پی ٹی آئی قیادت کو "فرینڈلی اپوزیشن” قرار دے کر سخت ترین زبان میں تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے اپنے کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ڈیل یا ڈھیل عمران خان سے مشورے پر دی ہے یا اسٹیبلشمنٹ پر، دونوں طرح سے تحریک انصاف کو اس کا نقصان ہوا ہے۔ ناقدین کے مطابق چار اکتوبر کو ڈی چوک پہنچنے کی کال کے دوران علی امین گنڈا پور کے کردار اور اسی طرح 15 اکتوبر کو پھر ڈی چوک میں مظاہرے کی کال کے دوران بیرسٹر گوہر علی کے فیصلے جب کہ 20 اکتوبر کو سینٹ اور قومی اسمبلی میں 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے دوران پوری پارلیمانی پارٹی کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ یہ سب کچھ کسی”ڈیل یا ڈھیل” کا نتیجہ ہے تاہم اس معاملہ میں ابھی بہت کنفیوژن پائی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی قیادت نے یہ ڈیل یا ڈھیل عمران خان سے مشورے پر دی ہے یا ڈیل یا ڈھیل میں اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ کام دکھا رہا ہے.
واضح رہے کہ وکلا رہنماؤں حامد خان بیرسٹر عابد زبیری ، علی احمد کرد اور دیگر وکلا ساتھیوں نے اس آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے جب کہ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف نے ججز کے تقرر کےلیے پارلیمانی پارٹی میں تمائندگی کےلیے اپنے اراکین نامزد کرنے کے بعد اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
تاکہ کارکنان کا آئینی ترمیم بارے غصہ کم کیا جا سکے تاکم حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے آئینی ترمیم کے حوالے سے ہونے والی پارلیمانی کمیٹی کی تمام میٹنکوں میں شرکت کی، اس میں حصہ لیا اسی طرح سینٹ اور قومی اسمبلی میں جب وہ ترمیم پیش اور منظور کی گئیں تو اس وقت بھی وہ اس ترمیم کا حصہ بننے کےلیے پارلیمنٹ میں موجود تھے ۔ اگر دونوں ایوانوں میں پی ٹی ائی کی موجود قیادت کے رویوں ان کی تقاریر ان کی باڈی لینگویج کا غور سے مشاہدہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ تمام اراکین کسی نہ کسی سمجھوتے کے نتیجہ میں پارلیمنٹ میں موجود تھے۔ دونوں ایوانوں کے اجلاسوں کے دوران پریس گیلریوں میں موجود تمام صحافی بھی پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے اراکین کے رویے پر تعجب کا اظہار کر رہے تھے کیونکہ دونوں ایوانوں میں پی ٹی ائی کے کسی ایک رکن اسمبلی نے ایک نعرہ نہیں لگایا ،آئینی ترمیم کے مسودے کی کاپیاں نہیں پھاڑیں، اسی طرح پی ٹی آئی کی قیادت نے حکمران اتحاد کی جماعتوں کے سربراہوں میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری پر بہتان تراشی طعنہ زنی اور ان کو چور چور کہنے سے اجتناب کیا دوسری طرف حکومتی بینچوں پر موجود اراکین پارلیمنٹ نے بھی جوابی طور پر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی کردار کشی کے حوالے سے زبان استعمال نہیں کی، پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے فرینڈلی اپوزیشن کے کردار کو دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر رابطہ ضرور ہوا ہے جس کے نتیجے میں یہ معنی خیز خاموشی نظر آرہی ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی ،منصور علی شاہ کے سابق بزنس پارٹنر نکلے
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لوگوں کے ضمیر خریدے گئے، یہ بتاتے ہوئے دکھ ہورہا ہے کہ ضمیر فروش بانی کے نام پر ووٹ لے کر مخالفین کے ساتھ بیٹھے تھے، ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے ہمیں ماموں بنایا ہے، پہلے خبر ڈالتے تھے کہ فلاں کا بچہ اٹھا لیا، یہ ساری ملی بھگت تھی، صرف پیسوں کےلیے انہوں نے اٹھائے جانے کا جواز بنایا ہے۔
شیر افضل مروت کے بیان پر ایک ایکس صارف نے تبصرہ کیا کہ ہر دفعہ پی ٹی آئی کے لوگ ہی کیوں بکتے ہیں؟
ایکس صارف عائشہ لکھتی ہیں کہ جو عمران خان کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں وہ غلط کررہے ہیں۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ بہت دکھ کی بات ہے ہمارے ووٹ پر پارلیمان آتے ہیں لیکن ہمارا حق چھین کر اپنی جیبں بھر کر چلے جاتے ہیں۔
