ثانیہ سعید نے خواتین مارچ کو پدرانہ معاشرے کیخلاف قرار کیوں دیا؟

معروف اداکارہ ثانیہ سعید نے عورت مارچ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مردوں کیخلاف نہیں بلکہ معاشرے کے پدرانہ نظام کیخلاف ہے، اداکارہ نے ایف ایچ ایم پوڈکاسٹ میں شرکت کے موقع پر خواتین کے حقوق پر تفصیلی گفتگو کی۔ثانیہ سعید نے فیمینزم اور برابری سے متعلق اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ خواتین کے حقوق مردوں کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں، بلکہ انہیں پدرانہ نظام کے خلاف بااختیار بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں، جس سے مرد اور عورت دونوں کو بے شمار نقصانات کا سامنا ہے۔اداکارہ نے چڑیا گھر میں جانوروں کے ساتھ انسان کے بُرے سلوک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام چڑیا گھروں کو فوری طور پر بند ہوجانا چاہئے، چڑیا گھر میں زیادہ تر بچے بُرا سلوک کرتے ہیں، بچے جانوروں کے سامنے شور مچاتے ہیں، پتھر مارتے ہیں، کچرا پھینکتے ہیں، جتنی بے رحمی والدین نے بچوں کے ساتھ کی ہے آج وہی بچے معاشرے کے سامنے ظاہر کر رہے ہیں، میں ایک بچے کو دیکھ کر بتا سکتی ہوں کہ اس کے ساتھ کتنا بُرا سلوک ہوا ہے، 99 فیصد بچوں کی بات نہیں سنی جاتی، بچے معاشرے کے بیج ہیں، مستقبل میں یہ تناور درخت بنتا ہے، ان کی حفاظت کرنی چاہئے۔ثانیہ سعید نے کہا کہ بہت دیر ہوچکی ہے، معاشرے میں تبدیلی آجانی چاہئے تھی، ہمیں مسائل کو سمجھ کر ردعمل دینا چاہئے، سوشل میڈیا پر صرف لائکس اور ویوز کی خاطر مسائل پر بے کار تبصرے اور ردعمل نہیں دینا چاہئے، کسی بات پر متفق ہونا مسئلہ نہیں بلکہ طریقہ کار غلط ہے۔اداکارہ نے کہا کہ پدرانہ نظام نے یہ فیصلہ کیا کہ مرد سخت مزاج، سخت گیر، اظہار رائے نہ کرنے والا، تمام بوجھ اکیلے اٹھانے والا بنے، عورت مارچ کی مہم مرد سے یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ میاں بیوی اس بوجھ کو بانٹیں، ایک دوسرے کو وقت دیں۔اس نظام میں کچھ خواتین بھی شامل ہیں جو دوسری عورتوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ شوہر جو کہے وہ مان لینا، شوہر کی مار برداشت کرتی رہو، گھر سے باہر مت جانا، یہ ساری باتیں عورت ہی دوسری عورت کو سکھاتی ہے جن لوگوں کی زندگیاں اس لڑائی پر انحصار کرتی ہیں وہ گھروں میں اپنے شوہر کی مار کھاتی ہیں، ان کے چہرے پر تیزاب پھینکا جاتا ہے، یہ مرد اور عورت کی لڑائی نہیں ہے، وہ مرد بہت پریشان رہتا ہے جس کی بیٹی گھر سے باہر اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کرتی، ایسی بیٹیوں کے والد سے پوچھو جنہیں رات کو نیند نہیں آتی، عورت مارچ کی لڑائی یہ ہے کہ ہمیں اس لڑکی کو محفوظ بنانا ہے، جب وہ گھر سے باہر نکلے تو اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرے۔ہمیں اس آدمی کے لیے بھی کام کرنا ہے جو کسی بس ،رکشہ یا ٹیکسی میں شیشہ ٹیڑھا کرکے لڑکی کو گھور رہا ہوتا ہے، یہ نارمل رویہ نہیں، یہ ڈسٹرب انسان کا رویہ ہے۔

Back to top button