27ویں ترمیم تاریخی ،18ویں ترمیم کسی کاباپ بھی ختم نہیں کرسکتا،بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ “کسی کا باپ بھی 18ویں ترمیم ختم نہیں کر سکتا”۔27ویں آئینی ترمیم تاریخی کامیابی ہے۔

بلاول بھٹو کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہنا تھاکہ 26ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دینے سے پہلے مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف سے اجازت لی، اور اب ہم فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دینے جا رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت پر صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہی نہیں بلکہ تمام جماعتوں نے اتفاق کیا تھا، اور اسی وقت فیصلہ ہوا تھا کہ آئینی عدالت قائم کی جائے گی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاک افواج کو اس وقت عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، اور فوج نے مودی کو دنیا کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے شکست کے بعد بھارت افغان حکام کی میزبانی کر رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت کریں، اپوزیشن کا کام صرف اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے رونا نہیں بلکہ قانون سازی میں حصہ لینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت میں صوبوں کو برابر نمائندگی دینے کی تجویز حکومت نے منظور کی، جس پر وہ شکر گزار ہیں۔ آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے ہم ماضی کی غلطی درست کر رہے ہیں، اور 27ویں ترمیم ایک تاریخی کامیابی ثابت ہوگی۔اس کے بعد کوئی ازخود نوٹس (سو موٹو) اختیار باقی نہیں رہے گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عدالتوں کے پاس منتخب وزرائے اعظم کو ہٹانے کی تلوار تھی جو اب واپس لے لی گئی ہے۔ اگر ملک کو دہشتگردی اور بحرانوں سے نکالنا ہے تو میثاقِ جمہوریت کے تمام نکات پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر ملکی مفاد کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا۔ “سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے ہم سب کو دروازے کھلے رکھنے ہوں گے۔”

Back to top button