27ویں آئینی ترمیم بے ضرر،کسی کونقصان نہیں پہنچےگا،راناثنااللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم بالکل بے ضرر ہے اور اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں راناثنااللہ نے کہا کہ اس ترمیم کے بارے میں میڈیا اور اپوزیشن نے ایسے خدشات پھیلا دیے ہیں جیسے اس کے منفی نتائج براہِ راست سامنے آ جائیں گے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
رانا ثنااللہ نے بتایا کہ ترمیم 4 بنیادی حصوں پر مبنی ہے اور آئین کے آرٹیکل 243 میں تبدیلیاں مسلح افواج کے اسٹریکچر اور کمانڈ اسٹریکچر سے متعلق ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص میں اللہ نے پاکستان کو کامیابی دی اور مسلح افواج نے اپنے سے 5 گنا بڑی فوج اور 10 گنا بڑی معیشت والے دشمن کو شکست دی۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم مفید ہے اور اس سے کسی کو فرق نہیں پڑے گا، اس ضمن میں پھیلا ہوا خوف بے بنیاد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ زمانے کے جنگوں کے تقاضے بدل چکے ہیں، ان تقاضوں کے پیش نظر آرمی کے کمانڈ اسٹریکچر میں پیشہ ورانہ چیزوں کو آئین میں لایا جارہا ہے، فورسز کو کوئی آئینی کردار دینے کی بات نہیں، یہ میڈیا پر غلط پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا ’آپ کے علم میں ہے کہ پہلی مرتبہ 78 سالوں میں پاکستان کو کامیابی ملی اور جنرل سید عاصم منیر نے کامیابی کو لیڈ کیا، جس بنا پر حکومت نے ان کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز کیا، اس عہدے کا آئین میں اس سے پہلے کوئی ذکر نہیں ہے، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت نے باضابطہ طور پر انہیں چیف مارشل کا عہدہ تفویض کیا ہے‘۔
