سپریم کورٹ سے عمرانڈو بندیالی گروپ کی مکمل صفائی جاری

سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس اعجاز الحسن کے استعفوں کے بعد ملک کی عدالتی تاریخ میں ایک بھونچال نظر آرہا ہے۔ان استعفوں پر کئی حلقوں میں تبصرے جاری ہیں۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ سابق چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے گروپ کی صفائی کا عمل ہے، جبکہ کچھ کے خیال میں یہ ذاتی عناد کا شاخسانہ ہے۔ کچھ مبصرین ایسے بھی ہیں جو اس کو سیاسی معاملات سے جوڑ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس مطاہر نقوی کے بعد جسٹس اعجاز الحسن کا استعفی بھی منظور کر لیا ہے۔
وکلا کی ایک بڑی تعداد ان استعفوں کو اس احتسابی عمل کا حصہ قرار دیتی ہے۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سیاست دان اور نوکر شاہی کے افراد بارگین کر کے مقدمے سے جان چھڑا لیتے ہیں جبکہ طاقتور حلقوں کے افراد قومی سلامتی کے نام پر احتساب سے بچ جاتے ہیں۔ اب کئی ناقدین یہ کہہ رہے ہیں کہ جج استعفی دے کر احتساب سے بچ رہے ہیں۔
پاکستان جوڈیشل کونسل کے رکن راہب بلیدی کا کہنا ہے کہ بلوچستان بار کونسل اور دوسری بار کونسلز نے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف شکایت دی تھی اور وہ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہے۔ راہب بلیدی کے مطابق ہمارے خیال میں جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سنگین الزامات تھے اور اس حوالے سے انہیں شو کاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔ بجائے اس کے کہ وہ شو کاز نوٹس کا جواب دیتے اور اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا سامنا کرتے انہوں نے استعفٰی دے دیا۔‘‘راہب بلیدی کے مطابق دونوں ججوں کو الزامات کا سامنا کرنا چاہیے۔ ”آخر سیاستدان اور عوامی نمائندے بھی تو الزامات کا سامنا کرتے ہیں اور سزائیں بھی بھگتتے ہیں تو کیا جج مقدس گائیں ہیں؟
دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کے سابق صدر اور بلوچستان کے نگران وزیر برائے قانون امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں احتساب کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ” بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دونوں ججز نے انکوائری کے ڈر سے استعفے دیے ہیں لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ اس کے باوجود بھی انکوائری کا عمل جاری رہے گا۔‘‘امان اللہ کنرانی کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے احتساب کا عمل شروع کر کے ایک بہت اچھی مثال قائم کی ہے۔ ” اب حقائق کو سامنے لایا جائے اور اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل نے اشارہ دیا ہے کہ وہ انکوائری ختم نہیں کرے گی، جو بہت مثبت قدم ہے۔‘‘
دوسری جانب مبصرین کے مطابق و اگر جسٹس فائز عیسی اور جسٹس شوکت صدیقی نے الزامات کا سامنا کیا ہے تو یہ الزامات کا سامنا کیوں نہیں کر سکتے۔ سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو اپنے اثاثے بھی ظاہر کرنے چاہییں۔ اس کے علاوہ جن ججوں نے فوجی آمروں کو ریلیف دیا ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے اور جنہوں نے ان ادوار میں مال بنایا ان کو بھی عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔‘‘
تاہم چند دیگر مبصرین کے خیال میں یہ احتسابی عمل سے زیادہ سیاسی معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہہ الدین احمد کے مطابق ”جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس اعجاز الحسن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ نواز شریف کے مخالف ہیں۔ اسی لیے انہیں استفعے پہ مجبور کیا گیا ہے۔ مزید استعفے بھی آئیں گے جو پاکستان کی عدلیہ کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔‘‘جسٹس وجیہہ الدین احمد کے مطابق نیب، ایف آئی اے یا کوئی دوسرا ادارہ ان مستعفی ججوں کے خلاف اگر انکوائری کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ ” اس انکوائری میں انہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جس دوران یہ جج رہے ہیں اس دوران وہ کس طرح کی بدعنوانی میں ملوث رہے ہیں یا نہیں۔ تاہم دوران ملازمت اگر کسی جج کے خلاف کوئی کاروائی کی جا سکتی ہے تو وہ صرف سپریم جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے دوسرے ادارے ایسا ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد کر سکتے ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ کی ایک سینیئر خاتون وکیل نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، ”بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ سابق چیف جسٹس، جسٹس عمر عطا بندیال کے گروپ کی صفائی ہو رہی ہے۔ ان دونوں ججوں کا تعلق اسی گروپ سے تھا اس لیے انہیں استفعٰی دینے پر مجبور کیا گیا۔ مزید استفعے بھی آنے والے دنوں میں متوقع ہیں۔‘‘
