الیکشن سے قبل پارٹی سے بغاوت کرنے والے لیگی رہنما کون؟

الیکشن سے قبل نون لیگ میں ایک بار پھر بغاوت کی افواہیں گرم ہیں۔ نون میں سے شین نکالنے والوں نے اب مسلم لیگ نون میں بغاوت کی خبریں پھیلانا شروع کر دی ہیں۔ ناقدین کے مطابق مسلم لیگ ن نے 10 جنوری کو پارٹی ٹکٹوں کا اعلان کیا تو ٹکٹ نہ ملنے والے امیدواروں نے نہ صرف کھل کر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا بلکہ پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار بھی کیا ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب کے مختلف حلقوں میں پارٹی کی جانب سے نظر انداز کیے جانے پر لیگی امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔سیالکوٹ ڈویژن سے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر دانیال عزیر کو ٹکٹ نہیں دیا گیا اوران کے بجائے چوہدری انور الحق کو پارٹی نے ٹکٹ الاٹ کردیا جس کے بعد دانیال عزیراور انکی اہلیہ نے آزاد حیثیت سے لڑنے کا اعلان کردیا ہے اسی طرح گوجرانولہ سے اشرف انصاری اور مولانا غیاث الدین آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں، 2018 میں انہوں نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔
فیصل آباد ڈویژن سے طلال چوہدری کو ٹکٹ نہیں دیا انکی جگہ نواب شیر وسیر کو ایڈجسٹ کیا گیا ہے، بہاولپور سے سعود مجید کو ٹکٹ نہیں دیا گیا جس کے بعد وہ بہاولپور میں کسی کو سپورٹ نہیں کررہے اور پارٹی سے ناراض ہیں،
فیصل آباد میں سابق اپوزیشن لیڈرراجہ ریاض کے بیٹے کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے وہاں سے رانا احسان افضل پارٹی کو بالکل سپورٹ نہیں کر رہے، فیصل آباد سے ہی عائشہ رجب کو پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا تو وہ بھی پارٹی امیدوار کے بجائے ایک آزاد امیدوار کو سپورٹ کر رہی ہیں، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے پارٹی نے ایم این اے کی سیٹ پر خالد وڑائچ کو اور ان کے بیٹے عقبہ ورڑائچ کو صوبائی سیٹ پر ٹکٹ جاری کیا لیکن خالد وڑائچ کی اہلیہ ایک صوبائی سیٹ پر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہی ہیں، وہاں مسلم لیگ ن کے امیدوار کے ساتھ پینل نہیں بنایا گیا۔
اسی طرح اوکاڑہ سے سعد اجمل کو پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا وہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں، جگنو محسن وہاں پر ن لیگ کے امیدوار کو سپورٹ نہیں کر رہیں، ساہیوال سے عائشہ لودھی کو پارٹی نے ٹکٹ جاری نہیں کیا وہ آزاد حیثیت سے ایم این اے کا الیکشن لڑ رہی ہیں، ٹیکسلا میں آئی پی پی کے غلام سرور خان کے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے پارٹی نے ٹکٹ جاری نہیں کیا لیکن ن لیگ کے منحرف عقیل ملک آزاد حیثیت میں ان کے مد مقابل ہوں گے۔
شیخوپورہ میں صوبائی سیٹ پر عارف سندھیلہ کو پارٹی نے ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا لہذا اب وہ آزاد حیثیت سے ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے جاوید لطیف کے چھوٹے بھائی کے مقابل صف آراء ہیں، خوشاب سے وارث کلو کے بیٹے معظم کلو آزاد حیثیت سے ایم این اے کا الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ پارٹی نے انہیں صوبائی سیٹ پر ٹکٹ جاری کیا تھا وہاں پر پارٹی نے آئی پی پی کے گلو اصغر بھگور کی وجہ سے کسی کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری نہیں کیا۔
خوشاب سے ہی سمیرا ملک بھی پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے ناراض ہیں اور انہوں نے نائب صدر خواتین پنجاب سے بھی اسی وجہ سے استعفی دے دیا تھا وہ بھی وہاں کسی کو سپورٹ نہیں کر رہی ہیں، پاکپتن سے سابق صوبائی وزیر عطا مانیکا کے بیٹے کو ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے وہاں بھی تنازعہ ابھی تک حل نہیں ہوا، گجرات سے جعفر اقبال کو پارٹی نے ٹکٹ جاری نہیں کیا وہ بھی پارٹی سے ناراض ہونے کے باعث کسی بھی امیدوار کو سپورٹ نہیں کر رہے ہیں۔
راولپنڈی سے ناصر بٹ کو پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا وہ بھی کسی کو سپورٹ نہیں کر رہے، وہاں پر ملک ابرار اور چوہدری تنویر کے درمیان پہلے ہی تنازعہ جاری ہے، لاہور میں این اے 117 میں آئی پی پی کے صدر علیم خان کی وجہ سے پارٹی نے کسی کو ٹکٹ جاری نہیں کیا وہاں پر سابق لیگی رہنما ملک ریاض پارٹی سے ناراض ہیں اور وہ کسی کی حمایت نہیں کر رہے۔
لاہور کے حلقہ این اے 128 میں پارٹی نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے عون چوہدری کو جگہ دی، جس کی وجہ سے لیگی رہنما توصیف شاہ اور خواجہ احمد احسان آئی پی پی کے امیدوار عون چوہدری کو سپورٹ نہیں کر رہے، اسی طرح لاہور کے کچھ حلقے ایسے ہیں جہاں پر پارٹی کے دیرینہ رہنما پارٹی ٹکٹ یافتہ امیدواروں کو سپورٹ نہیں کر رہے۔ ان تنازعات کو ختم کرنے کے لیے پارٹی نے 10 کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، جو حلقے میں نہ صرف تنازعات کو ختم کروائیں گی بلکہ جو آزاد حیثیت سے ن لیگ کے امیدوار سے مقابلہ کر رہے ہیں انہیں الیکشن لڑنے سے بھی روکیں گی ۔
واضح رہے کہ یہ تمام کمیٹیاں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ہیں، کمیٹی ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ تنازعات کے شکار حلقوں میں جا کر ٹکٹ یافتہ امیدواروں کی پوزیشن چیک کریں، اور ان کی مقبولیت کے حوالے سے پارٹی قائد کو رپورٹ کی جائے، تاکہ اس ضمن میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جاسکے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ کمیٹیاں مقامی سطح پر فرقہ واریت کی بنیاد پر امیدواروں کے درمیان اختلافات کو ختم کروانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی، پارٹی سے نارض ہوکر آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے والے امیدواروں کو الیکشن لڑنے سے روکا جائے گا، جن حلقوں میں مقابلے کی فضا ہے وہاں یہ کمیٹیاں امیدواروں کو فعال کریں گی، تاکہ گھر گھر رابطے کی مہم جاری کی جاسکے، ان کمیٹیوں کو تمام حلقوں میں ہر قسم کے تنازعات کے تصفیے کا پورا مینڈیٹ ہوگا، تمام کمیٹیاں ایک ہفتے کے اندر معاملات کو حل کروا کر پارٹی کو رپوٹ کریں گی۔
