نواز شریف لولی لنگڑی حکومت قبول نہیں کریں گے‘

الیکشن کی آمد آمد ہے تاہم سیاسی حلقوں میں انتخابی نتائج آنے سے پہلے ہی نون لیگ کو کنگز پارٹی قرار دیا جا رہا ہے اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگلی حکومت نون لیگ کو دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے تاہم سینیئر صحافی سلیم بخاری کا کہنا ہے کہ جو مرضی ہوجائے ،جب تک چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بیٹھے ہیں 8 فروری کو عام انتخابات ہوجائیں گے تاہم نواز شریف لولی لنگڑی حکومت قبول نہیں کریں گے۔شہباز شریف وزیر اعظم بنے تو مریم نواز پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہوں گی۔
پروگرام’ سلیم بخاری شو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے گروپ ایڈیٹر سلیم بخاری نے کہا ہے کہ جب تک چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بیٹھے ہوئے ہیں تب تک 8 فروری 2024 کے الیکشن پتھر پر لکیر ہیں، ہر صورت ہو کر رہیں گے، الیکشن نہ ہونے کے حوالے سے جتنی بھی خبریں چل رہی ہیں مجھے نہیں لگتا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ہوتے ہوئے یہ الیکشن ملتوی ہوسکیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اشارے ایسے مل رہے کہ جن کی وجہ سے شکوک وشبہات پیدا ہورہے ہیں۔ جس طرح یونیورسٹیز بند کی جاری ہیں اور آرمی ان ایکشن ہے اور سیکیورٹی فورسز نے سات دہشتگرد مارے بھی ہیں ،یہ سارے آپریشن ضلع ژوب کے علاقے میں ہورہے ہیں لیکن ان سب کے باوجود میں نہیں سمجھتا کہ الیکشن نہیں ہونگے، الیکشن تو ہر حال میں ہونگے اور سوشل میڈیا پر جتنی بھی اس طرح کی من گھڑت خبریں چل رہی ہیں،میں ان سب کو سیریس نہیں لیتا۔
نواز شریف کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ 21 اکتوبر کو جب وہ وطن واپس آئے تھے تو تب انہوں نے اپنا پہلا جلسہ لاہور کے اندر کیا اور وہ اپنی نوعیت کا ایک بڑا جلسہ تھا اس کو آپ کسی لحاظ سے ناکام نہیں کہہ سکتے اور دوسرا جلسہ انہوں نے حافظ آباد میں کیا وہ جلسہ اس علاقے کی تاریخ کا اور جگہ کے لحاظ سے ایک بہت بڑا جلسہ تھا ،جس کو ان کے مخالفین نے بھی مانا ہے اور تیسرا شو انہوں نے مانسہرہ میں کیا ہے جو کہ ایک بہت بڑا پاور شو تھا ۔ ان انتخابی جلسوں سے پتا چلتا یے کہ نواز شریف کی مقبولیت اب بھی قائم ہے۔ سلیم بخاری کے مطابق نواز شریف کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ جینٹل مین سیاست پر یقین رکھتے ہیں،وہ اپنے کسی بھی مخالف پرالزام تراشی نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی تقاریر میں کسی قسم کی گالم گلوچ کا کلچر ہے اور وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔
نواز شریف کی حکومت کے حوالے سے سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ اگر ان کو حکومت مل گئی تو وہ ایک مضبوط حکومت لیں گے ،بیساکھی کے سہارے ٹکی حکومت وہ کسی صورت بھی قبول نہیں کریں گے،اگر ان کو 2 تہائی اکثریت ملتی ہے تو ٹھیک ورنہ وہ حکومت قبول نہیں کریں گے ،پہلے بھی تینوں حکومتیں انہوں نے اسی وجہ سے گنوائی ہیں کہ ان کے پاس یہی کچھ حال تھا۔
مریم نواز کے وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب کے حوالے سے سوال پر سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کبھی بھی پی ڈی ایم کی طرح کی لولی لنگڑی حکومت کسی صورت نہیں لیں گے۔ اور اگر نواز شریف حکومت نہیں لیں گے تو پھر ان کی جگہ شہباز شریف حکومت لیں گے۔ اور اگر شہباز شریف وزیراعظم بنتے ہیں تو پھر مریم کیلئے پنجاب کا میدان بالکل خالی پڑا ہے اور اس صورت میں وہی ایک مضبوط امیدوار ہیں۔ مزید بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو بھی بھر پور طریقے سے اپنی الیکشن مہم چلا رہے ہیں اور انہوں نے اپنے ہر جلسے میں ن لیگ کو ٹارگٹ پر رکھا ہوا ہے ،وہ جانتے ہیں کہ اگر اس نے پی ٹی آئی کا ووٹ لینا ہے تو ان کو ن لیگ کو اپنے نشانے پر رکھنا ہوگا۔
