ڈرامہ سیریل ’’تکبر‘‘ مغرور رشتوں کی کہانی

ڈرامہ سیریل ’’تکبر‘‘ کی کہانی اداس، دکھی اور مغرور رشتوں پر مبنی ہے، جو انسان کو عملی زندگی سے کوسوں دور کر کے دکھی رکھتی ہے، ’’تکبر‘‘ اپنے نام کی طرح غرور کی کہانی ہے جو انسان کو بیمار رکھتی ہے، سادہ سی کہانی ہے، سیدھے سادے طریقے سے پیش کی گئی ہے۔کہانیاں سب پرانی ہی ہوتی ہیں ان کو تکنیک اور دور سے جدید بنایا جاتا ہے، حسن اتفاق کہیئے کہ یہاں سب کچھ ہی پرانا ہے، ابھی تک درجہ اول کی گاڑی سے لڑکی آسانی سے اغوا ہو بھی جاتی ہے اور اتنی ہی آسانی سے گھر بھی پہنچ جاتی ہے کہ کوئی ہنگامہ بھی نہیں ہوتا۔ اتنے بڑے گھر اور علاقے میں کوئی سی سی ٹی وی کیمرے بھی نہیں لگے ہوئے۔جوان اولاد کو آج بھی ماں مرتے ہوئے کسی رشتے کے نانا کے گھر جانے کا درس دے رہی ہے، کالج جانے والی اولاد کو تو محنت مزدوری کرنے کے قابل ہونا چاہئے گویا ایک نکمی اولاد کی کہانی ہے بلکہ سب نوجوان کردار نالائق اور زندگی کی اصل رمک سے دور ہیں۔سب کو پڑھنے کا بچپن سے شوق ہے مگر پڑھتے شاید نہیں ہیں یا پڑھنا کوئی مجبوری دکھائی گئی ہے جس کے بعد اچھی نوکری مل جائے گی۔ سب کو شادی کا بھی شوق ہے۔ مقدس بطور بہن دلچسپ کردار ہے جو اپنے بھائی کے لیے اس گھر میں رشتہ بنانا چاہ رہی ہے جہاں دونوں کا جینا حرام ہو گیا ہے۔نانا مکمل فرشتہ صفت ہیں مگر انہیں اپنی غریب نواسی کے حالات بہتر کرنے کا خیال شاید کبھی نہیں آیا۔ وہ معاذ کو وہ اپنے دفتر میں جاب بھی دے سکتے تھے مگر انہوں نے اسے بھی گھر تک محدود کر رکھا ہے۔ عارض البتہ اپنی افسری کا رعب جھاڑنے دفتر جاتا ہے۔ مقدس کو بھی ایک فرشتہ صفت کردار دکھایا گیا ہے۔ مالک مکان کی نیت ٹھیک نہیں ہے؟ کس مالک مکان کی ٹھیک ہوتی ہے؟ لہٰذا اضافت کو جواز بنایا گیا ہے۔دولہا میاں عابس کو اغوا ہوئی دلہن سے بھی پیار ہو گیا ہے۔ وہ اس کے حسن پہ مرمٹے ہیں۔ سوچ مثبت ہونی چاہیے لیکن غیر حقیقی نہیں ہونی چاہیے، یہاں مثالی تخیل کی پرواز زیادہ ہے۔ ڈرامے کی فضا اداس اداس ہے۔ ایسے ڈرامے خواب کی دنیا میں لے جاتے ہیں جو انسان کو عملی زندگی سے کوسوں دور کر کے دکھی رکھتے ہیں۔ ڈراما میں سب کچھ ہے بس ڈراما نہیں ہے جیسے گھر میں سب کچھ ہوتا ہے افراد بھی ہوتے ہیں، گھرانہ نہیں ہوتا۔مادیت کی زمین پہ کہانی کی کمزور بنت ہوئی ہے مادیت میں جو آگ ہوتی ہے وہ جملوں میں نہیں بھڑک ہے۔ بڑے جذبوں کے لیے طاقتور الفاظ استعمال کرنے پڑتے ہیں یہاں لفظوں کا وزن کم ہے، کاسٹ نے بھی اس وزن کو نہیں بڑھایا ورنہ بعض اوقات کاسٹ سب کمزریوں پہ اداکاری سے پردہ ڈال دیتی ہے۔ ہیرو تو بالکل اپنی جگہ فٹ نہیں ہے مصنوعی سا لگ رہا ہے، نانا، دادا پوتے پوتی ، نواسے سب کے کردار ہیں۔ والدین خاموش نسل میں سے معلوم ہو رہے ہیں، ڈراما پسند کیا جا رہا ہے۔ چپ کسے پسند نہیں ہوتی، تکبر کی کہانی ہے جس کا انجام راکھ ہی ہوتا ہے یہاں بھی سب کچھ زوال کی طرف جا رہا ہے۔ زوال سے شاید بہار کی کونپلیں پھر بیدار ہو جائیں، مصنفہ سیما مناف ہیں۔ ہدایات کاشف سلیم کی ہیں، ہم ٹی وی سے ڈراما نشر ہو رہا ہے جو ان دنوں اپنی 19ویں سالگرہ منا رہا ہے۔
