28ویں ترمیم جنوری میں قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا امکان

اسلام آباد میں فیصلہ ساز حلقے یہ دعوی کر رہے ہیں کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد حکومتی سطح پر اب 28ویں ترمیم کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ترمیمی پیکیج کی تیاری میں چھ سے آٹھ ہفتے لگ سکتے ہیں اور امکان یہ ہے کہ اسے اگلے سال جنوری میں قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق 28ویں ترمیم کے دو اہم ترین نکات این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کر کے وفاق کا حصہ بڑھانا اور نئے صوبوں کا قیام ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان ترامیم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت ہے جس کو یہ دونوں تجاویز قابلِ قبول نہیں۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے مسلم لیگ ن اور طاقتور فیصلہ ساز اداروں نے چھ سے آٹھ ہفتے کا وقت رکھا ہے جس کے دوران پیپلز پارٹی کی قیادت کو قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم دراصل ملک کے انتظامی اور مالیاتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لانے کے لیے ہو گی۔ اس ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا مالیاتی حصہ بڑھانے اور نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کی تجاویز شامل ہوں گی۔ اگرچہ ماضی میں دونوں بڑی جماعتیں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹ نئے صوبوں کے معاملے پر بہت محتاط رہی ہیں، لیکن سب سے زیادہ مخالفت پیپلز پارٹی کی جانب سے ہی سامنے آتی رہی ہے، جو 27ویں ترمیم کے دوران بھی مالیاتی ڈھانچے میں مجوزہ تبدیلیوں کو مسترد کر چکی ہے۔
یاد رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت حکومت نے پیپلز پارٹی کے مطالبات اس لیے مان لیے تھے کہ اسے ہر صورت میں نومبر میں اس کی توثیق کروانا مقصود تھی۔ تاہم 28ویں ترمیم کے لیے حکومت کے پاس نہ صرف کھلا وقت موجود ہے بلکہ ایک مربوط پارلیمانی حکمتِ عملی بھی تیار ہے۔ اگرچہ 28ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کو پیپلز پارٹی کے ووٹ درکار رہیں گے، لیکن ضمنی انتخابات کے بعد پارلیمانی نمبر گیم بدل جانے سے نون لیگی حکومت کا پیپلز پارٹی پر انحصار پہلے جیسا نہیں رہا۔
نون لیگی حلقوں کا دعوی ہے کہ حکومت کے پاس سادہ اکثریت کے حصول کیلئے مطلوبہ نمبر موجود ہیں۔ ضمنی الیکشن کے بعد ن لیگ کی قومی اسمبلی میں نشستیں 132 تک پہنچ چکی ہیں، اس کے علاوہ ایم کیو ایم کی 22 سیٹین ہیں، مسلم لیگ ق کی 5، استحکام پاکستان پارٹی کی 4، مسلم لیگ ضیا کی ایک جبکہ چار آزاد ارکان بھی حکومت کے ساتھ ہیں، یوں حکومت کی اتحادی جماعتوں کی مجموعی تعداد 169 بن جاتی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی اپنے 74 ارکان کے ساتھ ایوان کی دوسری بڑی جماعت ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں، مگر آئینی ترامیم کے لیے اس کی حمایت اب بھی لازم ہے۔
فیصلہ ساز حلقوں کا کہنا ہے کہ 28ویں ترمیم کی تیاریوں کی بنیادی وجہ ملک کا موجودہ مالیاتی بحران اور صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کی تقسیم کا غیر متوازن ماڈل ہے۔ انکا کہنا ہے کہ موجودہ آئینی صورت حال کے تحت این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ تو بڑھایا جا سکتا ہے مگر کم نہیں کیا جا سکتا۔ اس پابندی کی وجہ سے وفاق دفاعی ضروریات، قرضوں کی ادائیگی اور انتظامی اخراجات کے لیے مسلسل آئی ایم کے قرض پر انحصار کرنے پر مجبور ہے، جب کہ صوبے وفاق کے جمع کیے گئے ریونیو سے اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ طاقتور حلقوں کے مطابق اس ماڈل کے جاری رہنے کی صورت میں پاکستان کے مسائل مزید بڑھیں گے، وفاق غریب تر ہوتا جائے گا اور صوبے امیر تر ہوتے جائیں گے، اس لیے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہو چکی ہے۔
فیصلہ ساز حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ انتظامی امور میں بھی موجودہ صوبوں کی جسامت ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ پنجاب آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بیشتر ملکوں سے بڑا ہے، سندھ اور خیبر پختونخوا بھی کئی ممالک سے زیادہ آبادی والے ہیں۔ لہذا اتنے بڑے انتظامی یونٹس میں کرپشن روکنا اور صحت، تعلیم اور انصاف فراہم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے مختلف حلقوں میں ڈویژن کی سطح پر نئے انتظامی یونٹس کو صوبے کا درجہ دینے کی تجویز پر غور جاری ہے۔
کیا نواز شریف PTI کے بیانیے کا جواب دینے کیلئے متحرک ہوئے ہیں؟
اس سلسلے میں ایک تحقیقی دستاویز بھی سامنے آئی ہے جس میں ملک کے انتظامی بحران کی نشاندہی اور ڈویژن کی سطح پر نئے صوبوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق صوبوں کے سائز کم کرنے سے نہ صرف انتظامی اخراجات گھٹیں گے بلکہ نئی سیاسی قیادت بھی ابھرے گی، پسماندہ علاقوں کو وسائل تک براہِ راست رسائی ملے گی اور گورننس کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ذرائع کے مطابق اگر 28ویں ترمیم پر اتفاق رائے ہو گیا تو یہ ترمیم ملک کے مالیاتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ البتہ اصل چیلنج پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنا ہے، جس کا رویہ آئندہ چند ہفتوں میں اس ترمیم کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
