29 اپریل کوماؤنٹ ایورسٹ جتنا بڑا پتھر زمین سے ٹکرائے گا

کرہ ارض پر موجود لوگوں کی بڑی تعداد اپنے ذاتی مسائل اور زمین سے جڑے خطرات کے متعلق ہمیشہ پریشانی سے دوچار رہتی ہے لیکن کسی نے کبھی بھی زمین سے باہر کہکشائوں کے متعلق نہیں سوچا جہاں زمین کے لیے سنگین خطرات موجود ہیں.
اب اطلاعات ہیں کہ 29 اپریل 2020 کو زمین سے ایک شہاب ثاقب ٹکرانے جا رہا ہے جس کا سائز ماؤنٹ ایورسٹ پہاڑ جتنا بڑا ہے۔ اس ٹکراؤ سے بڑے پیمانے پر تباہی مچنے کا امکان ہے جو زمین کو شدید خطرات سے دوچار کر دے گی۔ شہاب ثاقب، اس کے ٹکرانے سے زمین کو پیدا ہونے والے خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے ناسا مختلف قسم کی تیاریوں میں مصروف عمل ہے.
ناسا کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق 29 اپریل 2020 کو زمین کے قریب سے ایک بہت بڑا شہاب ثاقب گزرے گا جس کا حجم مائونٹ ایورسٹ پہاڑ کے برابر ہے۔ اگر یہ چٹان زمین سے ٹکراتی ہے تو یہ ایک بہت بڑے شہر کو ریت میں تبدیل کر سکتی ہے۔ لیکن اس سے ذیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق اس چٹان کے زمین سے ٹکرانے کے امکانات صرف 3 فیصد ہیں لیکن ماہرین کے مطابق اگر یہ شہاب ثاقب زمین کے زیادہ قریب آیا تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ زمین کی کشش ثقل اس چٹان کو اپنی طرف کھینچ لے۔
کہکشاؤں سے چھوٹے موٹے پتھروں کی زمین پر آمد کا سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے لیکن آج تک کبھی زمین سے اتنا بڑا پتھر نہیں ٹکرایا ہے ،اگست 2006 میں ناسا کی جانب سے ایک وارننگ جاری کی گئی تھی کہ زمین کی طرف ایک بہت بڑا پتھر تیز رفتاری سے بڑھ رہا ہے ، پوری دنیا میں خوف کا عالم تھا کہ یہ پتھر کس شہر اور ملک میں گرے گا لیکن 9 فٹ لمبا اور 9 فٹ چوڑا یہ پتھر ایک غیرآبادی والے علاقے میں گرا تھا جس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ، یہ کہکشاں سے زمین پر گرنے والا اب تک کا سب سے بڑا پتھر تھا۔
کہکشاؤں کے پتھروں کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے کی بات ہو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بہت ماضی میں زندگی گزار رہے ہیں ، جی ہاں ابھی تک دنیا کے پاس ایسی کوئی ٹیکنالوجی نہیں ہے جوکہ زمین کی طرف تیزی سے بڑھنے والے پتھروں کا راستہ تبدیل کر سکے یا ان کو روکنے کے قابل ہو، اس مقصد کے لیے 1958 میں ناسا کو قائم کیا گیا تھا تاکہ وہ زمین کو بیرونی خطرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کر سکے اور اب ناسا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2022 میں ایک ایسا ٹیسٹ کرنے جا رہا ہے جس کی مدد سے مستقبل میں کہکشائوں کے بڑے پتھروں کو زمین سے دور رکھنے میں مدد ملے گی۔
زمین کو کہکشاؤں سے گرنے والے پتھروں سے محفوظ بنانے کیلئے ناسا نے ڈارٹ نامی منصوبے کا آغاز کر رکھا ہے جس کا مطلب ہے ڈبل ایسٹورائیڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ ‘‘۔ ناسا نے تجربے کے لیے ایک پتھر کا بھی انتخاب کر لیا ہے جس کا نام ہے ’’ڈیڈی موس ‘‘ جی ہاں یہ پتھر انتہائی سست رفتاری سے زمین کی طرف بڑھ رہا ہے ، ناسا اس پتھر کو خلا میں ہی تباہ کرنے اور اس کا رخ تبدیل کرنے کے لیے ایک راکٹ خلا میں چھوڑے گا جوکہ اس پتھر سے ٹکرا کر اس کا رخ تبدیل کرے گا۔ اگر ناسا اپنے تجربے میں ناکام بھی رہا تو یہ پتھر زمین سے نہیں ٹکرائے گا ۔ اب دیکھنا ہے کہ ناسا مستقبل کے اس خطرے سے نمٹنے میں کتنا کامیاب ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button