لیجنڈ اداکارہ شگفتہ اعجاز کی دوسری محبت کون ہے؟

سینیئر اداکارہ شگفتہ اعجاز نے پہلی بار اپنی دوسری شادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے شوہر سے دو بیٹیاں ہونے کی وجہ سے وہ دوسری شادی کرنے سے کترارہی تھیں۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں معروف اداکارہ شگفتہ اعجاز نے دو طرفہ محبت اور دوسری بار محبت کرنے کا اعتراف بھی کیا اور کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ان جیسی خوبصورت خاتون صرف یک طرفہ محبت پر ہی زندگی گزار دے۔
اداکارہ شگفتہ اعجاز نے دوسری شادی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ انہوں نے شوہر یحیٰ صدیقی کی جانب سے پیش کش کے دو سال بعد ان سے شادی کےلیے رضامندی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شادی کی پیش کش کو تاخیر سے قبول کرنے کا سبب ان کی ذاتی اور ذہنی پریشانیاں تھیں، کیوں کہ وہ پہلے ہی دو بیٹیوں کی ماں تھیں، اس لیے وہ دوسری بار رشتہ ازدواج میں بندھنے پر پریشانی اور گھبراہٹ کا شکار تھیں۔ ان کے مطابق انہیں یہ پریشانی تھیں کہ نہ جانے ان کے ہونے والے شوہر ان کی بیٹیوں کے ساتھ کیسا رویہ رکھیں گے، آیا وہ انہیں تسلیم کریں گے بھی یا نہیں؟۔
شگفتہ اعجاز نے اعتراف کیا کہ انہیں شادی کی پیش کش کرنے والے شخص سچے تھے اور وہ ان کی بیٹیوں کے ساتھ بھی گھل مل گئے، جس کے بعد انہوں نے ان سے شادی کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے ہاں دوسری شادی کے بعد مزید دو بیٹیوں کی پیدائش ہوئی اور ان کی تمام بیٹیاں ایک دوسرے کو سگی بہنیں سمجھتی ہیں۔
یاد رہے کہ شگفتہ اعجاز نے یحیٰ صدیقی سے کئی سال قبل دوسری شادی کی تھی، ان کے شوہر ڈراما پروڈیوسر رہے ہیں، ان کی بھی شگفتہ اعجاز سے دوسری شادی تھی۔
شگفتہ اعجاز نے اپنے فنی سفر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے نومبر 1989 میں پہلی بار بطور اداکارہ اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور ان کا پہلا ڈراما ہی اداکار شبیر جان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں پہلے سے ہی اداکاری کا بہت شوق تھا، ان کی بڑی بہن کی ایک دوست اداکارہ تھی اور جب وہ ان کے محلے میں آتی تھی تو پورا محلہ جمع ہوجاتا تھا، جس کے بعد انہیں اداکاری کا شوق ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ پاکستان ٹیلی وژن پر آڈیشن دینے کےلیے گئیں تو وہاں ان کی ملاقات ہدایت کار کاظم پاشا سے ہوئی، کاظم پاشا نے انہیں دیکھتے ہی کہا کہ وہ ہی ان کے اگلے ڈرامے کی ہیروئن ہوں گی۔
یاد رہے کہ شگفتہ اعجاز نے 1989 میں پی ٹی وی کے مقبول ترین ڈراموں میں شمار ہونے والے ’جانگلوس‘ سے اداکاری کا آغاز کیا تھا۔ شگفتہ اعجاز 18 برس کی عمر میں شوبز میں آئی تھیں جب کہ انہوں نے 1991 میں دوسرا ڈراما ’آنچ‘ کیا، جس نے انہیں مقبولیت کی نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ انہیں اپنے پہلے ہی ڈرامے ’جانگلوس‘ سے شہرت مل گئی تھی، تاہم انہیں زیادہ پذیرائی آنچ سے ملی۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے شوبز انڈسٹری کو بہت ہی خوبصورت اور اچھی انڈسٹری قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف اپنی بیٹیوں بلکہ دوسری لڑکیوں کو بھی تجویز دیں گی کہ وہ لازمی طور پر اس انڈسٹری میں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح انہوں نے ’آنچ‘ جیسے ڈراموں میں منفرد کردار ادا کرکے نہ صرف اپنی عزت بنائی بلکہ والدین کی عزت بھی بنائی، دوسری لڑکیاں بھی اس طرح منظم منصوبہ بندی اور اپنی حدود کا تعین کرکے شوبز انڈسٹری کا حصہ بنیں اور وہ ایسے کردار ادا کریں جس پر ان کے والدین بھی فخر کریں۔
شگفتہ اعجاز نے انکشاف کیا کہ 2003 جب میں ان کے پروڈیوس کردہ ڈرامے ’راکھ میں چنگاری‘ نے پی ٹی وی کا فرسٹ ایوارڈ جیتا تھا اس وقت وہ انتہائی مالی مشکلات سے گزر رہی تھیں لیکن ایوارڈ جیتنے کے بعد ان کی زندگی ہی بدل گئی۔
شگفتہ اعجاز نے مزید بتایا کہ انہوں نے ’جانگلوس‘ ڈرامے کے بعد انٹرنیشنل ایئرلائنز میں ایئرہوسٹس کی ملازمت شروع کی لیکن جلد ہی انہوں نے ایئرہوسٹس کی ملازمت چھوڑ کر اداکاری شروع کردی۔
انہوں نے بتایا کہ گھر سے اداکاری کی اجازت لینے کےلیے انہوں نے بھوک ہڑتال کردی تھی، جس پر والدین رضامند ہوگئے اور انہیں شوبز میں آنے کی اجازت دی۔

Back to top button