مخصوص نشستیں جانے کے بعد حکومت کے لئے آئینی ترمیم ناممکن

مخصوص نشستوں کی معطلی بارے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد شادیانے بجانے اور اقتدار کے خواب دیکھنے والے عمرانڈوز کی خوشیاں عارضی نکلیں۔ تازہ پیشرفت کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مخصوص نشستوں پر ارکان کو ڈی نوٹیفائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اراکین  کی معطلی کے بعد حکومت دو تہائی اکثریت کھو جائے گی جس کے بعد شہباز حکومت کیلئے سنی اتحاد کونسل کے بغیر کوئی بھی آئینی ترمیم کرنا ناممکن ہو گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر الیکشن کمیشن کے لاء ونگ نے اپنی رائے دے دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کیا ہے، عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے تحت رکنیت معطل کی جا سکتی ہے اس میں ڈی نوٹیفائی کا حکم نہیں ہے۔یاد رہے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر لا ونگ سے رائے طلب کی تھی، جس کے بعد لاء ونگ نے رائے دی ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر ارکان کو ڈی نوٹیفائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ پیر کو سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو الاٹ کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں مجموعی طور پر 78 مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو الاٹ کر دی تھیں۔ اگر یہ تمام نشستیں سنی اتحاد کونسل کو مل گئیں تو حکمراں اتحاد قومی اسمبلی اور ایوانِ بالا میں دو تہائی اکثریت کھو دے گا اور پی ٹی آئی کے بغیر آئین میں ترمیم ممکن نہیں ہو پائے گی۔

مبصرین کھ مطابق قومی اسمبلی میں حکمراں اتحاد کے اراکین کی تعداد اس وقت 228 ہے، اگر 22 مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کو نکال دیا جائے تو حکمراں اتحاد کے اراکین کا تعداد کم ہو کر 206 رہ جائے گا اور حکومتی جماعتیں ایوان میں دو تہائی اکثریت سے محروم ہو جائیں گی۔

دوسری جانب سینئر تجزیہ کار اور صحافی نصرت جاوید کا بھی کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں مخصوص نشستیں ملنے کی صورت میں سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی تعداد حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے زیادہ ہوجائے گی اور عملی طور پر وہ سنگل لارجر پارٹی کے طور پر سامنے آئے گی۔پارلیمانی روایات کے تحت قومی اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی جماعت کو اخلاقی طور پر حکومت بنانے کا اختیار ہوتا ہے۔نصرت جاوید کے مطابق اگر سنی اتحاد کونسل قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تو ایک نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔ البتہ یہ منظرنامہ سپریم کورٹ کی جانب سے سنی اتحاد کونسل کے حق میں فیصلہ آنے کی صورت میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت دو تہائی اکثریت چھن جانے کے خوف میں اتنی مبتلا کیوں ہے؟ مبصرین کے مطابق موجودہ وفاقی حکومت اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری سے متعلق آئین کے آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس حوالے سے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ باضابطہ بیان بھی دے چکے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں بھی اضافہ کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔شہر اقتدار میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ کچھ حلقے 18ویں آئینی ترمیم میں رد و بدل چاہتے ہیں۔ اسی طرح وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب عندیہ دے چکے ہیں کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کے لیے سیاسی اتفاق کے ساتھ ساتھ آئینی ترمیم بھی درکار ہے۔

واضح رہے کہ آئینِ پاکستان میں کسی بھی قسم کی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ آئین میں دو تہائی اکثریت کی تعداد سے کم اراکین آئین میں ترمیم کا کوئی بل منظور نہیں کر سکتے۔سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملنے کی صورت میں حکومت کے لیے سنی اتحاد کی حمایت کے بغیر آئینی ترمیم کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوگا اور یوں حکومت کی آئین میں ترامیم کی خواہش ادھوری رہ جائے گی۔

Back to top button