3 ارب کا کھانچہ: حمزہ عباسی کی بہن فضیلہ کی گرفتاری کا امکان

3 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزام پر تحریک انصاف سے وابستہ معروف فلم ایکٹر حمزہ علی عباسی کی بہن اور سوشل میڈیا سیلیبریٹی ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی گرفتاری کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ ایف آئی اے کی چارج شیٹ کے مطابق فضیلہ عباسی نے یہ بھاری رقم امریکہ اور دبئی منتقل کی، جبکہ ایف بی آر کے ریکارڈ میں ان کی ڈکلیئرڈ سالانہ آمدن چند لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
فضیلہ کے خلاف درج منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اس کیس میں منی لانڈرنگ کے پکے شواہد ملے ہیں اور بیرون ملک بھجوائی گئی رقم 3 ارب روپے سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ملزمہ منی لانڈرنگ اکیلے ہی کر رہی تھی یا اس میں دیگر افراد بھی ملوث ہیں۔ اس حوالے سے سیاسی پہلو کی تفتیش بھی جاری ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی گرفتاری کا امکان اس لیے بڑھ گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے انکے خلاف درج منی لانڈرنگ کیس خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد اسلام آباد کے سپیشل جج سینٹرل کی عدالت سے ملزمہ کی ضمانت قبلِ از گرفتاری میں توسیع کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی ہے، جس کے بعد ایف آئی اے نے ان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج خادم حسین نے فضیلہ عباسی کی جانب سے دائر کی گئیں تین درخواستوں پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے کو شفاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فضیلہ عباسی کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت تحقیقات جاری رہیں گی، تاہم منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمے میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت الزامات اور انکوائری کو غیر قانونی قرار دیا گیا کیونکہ ایف آئی اے نے کیس میں طے شدہ قانونی طریقہ کار کی مکمل پیروی نہیں کی۔
عدالت نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسی ضرورت پڑنے پر فضیلہ عباسی کے اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کے فیصلے میں آزاد ہوگی اور الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں اکاؤنٹس فوری ڈی فریز کیے جائیں گے۔ ایف آئی اے میں درج ہونے والے مقدمے کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے 22 بینک اکاؤنٹس کے ذریعے غیر قانونی طور پر 2.5 ارب روپے کے ٹرانزیکشنز کیے۔ ایف آئی اے کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ کی ایف بی آر میں ڈکلیئرڈ سالانہ آمدن 6 سے 60 لاکھ روپے کے درمیان تھی۔ تحقیقاتی ٹیم کے اہلکار نے بتایا کہ مقدمے میں شواہد کی بنیاد پر رقم 3 ارب روپے سے بھی زیادہ بنتی ہے اور تحقیقات میں دیکھا جا رہا ہے کہ یہ کام اکیلے ہوا یا کسی اور کے تعاون سے کیا گیا۔
ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حوالہ ہنڈی اور مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے بظاہر شواہد موجود ہیں اور ایف بی آر حکام کے کردار کا تعین بھی دورانِ تفتیش کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی ایک معروف ڈرماٹولوجسٹ ہیں جو اکثر ٹی وی شوز میں شرکت کرتی ہیں۔ وہ فنکاروں کے کاسمیٹک پروسیجرز کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں اور ماضی قریب میں اپنی بھابھی اور حمزہ علی عباسی کی اہلیہ کی کاسمیٹک سرجری کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث کا حصہ رہیں۔ انکی ذاتی ویب سائٹ کے مطابق فضیلہ اسلام آباد، دبئی اور لندن میں کلینکس چلاتی ہیں اور مریضوں کے لیے اپائٹمنٹ بک کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ ڈاکٹر فضیلہ نے کنگز کالج لندن سے کلینیکل ڈرماٹولوجی میں پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور 2003 سے پریکٹس کر رہی ہیں۔
ادھر بی بی سی اردو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس کیس کی تحقیقاتی ٹیم کے اہلکار نے کہا: کہ ہم نے ابتدائی تحقیقات میں مشکوک بینک ٹرانزیکشنز کا سراغ لگایا ہے۔ اب یہ دیکھا جا رہا ہے کہ رقم کے سلسلے میں دیگر افراد ملوث ہیں یا نہیں۔ یہ مقدمہ صرف مالی نہیں بلکہ سیاسی پہلو بھی رکھتا ہے، اس لیے تحقیقات ہر زاویے سے کی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ فضیلہ کے اداکار بھائی حمزہ علی عباسی ماضی میں تحریکِ انصاف کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے اور پارٹی کے سیکرٹری کلچر بھی منتخب ہوئے تھے۔ تاہم عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور ان کی گرفتاری کے بعد حمزہ نے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ عمران خان کی دوسری سابق اہلیہ ریحام خان نے اپنی ایک کتاب میں تفصیل کے ساتھ حمزہ علی عباسی کا ذکر کیا اور ان پر سنگین الزامات عائد کیے۔ اپنے رد عمل میں حمزہ عباسی نے کہا کہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان کو ایک انتہائی گھٹیا شخص کے طور پر پینٹ کیا ہے جبکہ خود کو بہت نیک، تہجد گزار عورت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق کتاب کا خلاصہ یہ تھا کہ عمران خان دنیا کے سب سے بدترین انسان ہیں جبکہ ریحام خان سب سے نیک عورت ہے اور شہباز شریف بہت ہی اچھے انسان ہیں۔
