خیبر پختون خواہ میں 300 اموات: PTI حکومت بے نقاب

ملکی تاریخ میں پہلی بار خیبر پختونخوا میں دو دن کے اندر کلاؤڈ برسٹنگ اور طوفانی بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے ہولناک تباہی مچا رکھی ہے۔ اس آفت میں 300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں، سیلابی پانی کی وجہ سے ہزاروں افراد کے بے گھر ہونے کے ساتھ ساتھ سینکڑوں مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، مال مویشی پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ ہزاروں متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں صوبے میں سامنے آنے والی اس المناک صورتحال نے ایک بار پھر صوبائی حکومت کی کارکردگی اور اس کے طویل اقتدار پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔
ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا میں ہونے والی تباہ کاریوں کی اصل ذمہ داری پاکستان تحریک انصاف پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ گزشتہ 12 سال سے یہ جماعت بلا شرکت غیرے صوبے میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔ طویل اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی حکومت نے نہ تو اس طرح کی آفات سے بچنے کیلئے ڈیمز کی تعمیر کی، نہ ندی نالوں کی صفائی یقینی بنائی اور نہ ہی بارشی پانی کے اخراج کے لیے کوئی قابلِ ذکر نظام بنایا۔ اتنے طویل دورِ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی حکومت کوئی بھی جامع ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان بنانے اور نکاسی آب کے موثر نظام کو قائم کرنے میں یکسر ناکام دکھائی دی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بارشی پانی کھلے عام بستیوں میں داخل ہوا اور بستیاں ملیامیٹ ہو گئیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا جیسے پہاڑی علاقوں میں کلاؤڈ برسٹنگ کے خطرات ہمیشہ رہتے ہیں۔ اگر اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے منصوبہ بندی کی جاتی تو نقصان کی شدت یقینی طور پر کم ہو سکتی تھی۔ماہرین کے بقول پی ٹی آئی قیادت نے ترقیاتی منصوبوں کے بڑے بڑے دعوے تو کیے لیکن بار بار آنے والی بارشوں اور سیلابی خطرات کے حوالے سے کوئی سنجیدہ پالیسی نہیں بنائی۔ اپنے دور اقتدار میں صوبائی حکومت صرف دعووں تک محدود رہی جبکہ حقیقتا پی ٹی آئی حکومت نے عملی اقدامات نہ کر کے عوام کو قدرتی آفات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ جس کا خمیازہ عوام کو حالیہ سیلابی صورتحال میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
تاہم حکومتی ترجمان اس ساری صورتحال کو حکم ربی قرار دے کر اپنی جان چھڑتے نظر آتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ خیبرپختوانخوا میں آنے والے تباہی کلاؤڈ برسٹنگ کے نتیجے میں آئی جس کی پیشگوئی کرنا یا اس کو رکنے کیلئے اقدامات کرنا انسانی بساط سے باہر ہے ۔ تاہم ماحولیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ بارش یا کلاؤڈ برسٹنگ ایک قدرتی عمل ہے اس روکنا تو ممکن نہیں تاہم جامع پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کے ذریعے اس سے ہونے والے نقصانات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں بارشی پانی کو محفوظ کرنے اور شہری و دیہی علاقوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے گئے ہیں، مگر خیبر پختونخوا میں ایسا کوئی نظام نظر نہیں آتا۔ اگر نالوں کی صفائی، نکاسی آب کے منصوبے اور چھوٹے ڈیمز وقت پر تعمیر ہوتے تو آج اتنی بڑی تعداد میں انسانی جانوں اور املاک کا نقصان نہ ہوتا۔
خیال رہے کہ اگر کسی چھوٹے علاقے یعنی ایک سے دس کلومیٹر کے اندر ایک گھنٹے میں 10 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ شدید بارش ہوتی ہے تو اس واقعے کو ’بادل کا پھٹنا‘ یا کلاؤڈ برسٹنگ کہا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک جگہ پر ایک سے زیادہ بادل پھٹ سکتے ہیں۔ ایسے میں جان و مال کا بہت نقصان ہوتا ہے لیکن شدید بارش کے ہر واقعے کو بادل پھٹنا نہیں کہا جاتا۔یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف ایک گھنٹے میں 10 سینٹی میٹر کی تیز بارش سے زیادہ نقصان نہیں ہوتا لیکن اگر قریب ہی کوئی دریا یا جھیل ہو اور وہ اچانک زیادہ پانی سے بھر جائے تو قریبی رہائشی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ ایسی ہی صورتحال خیبرپختونخوا میں دیکھنے میں آئی ہے
دوسری جانب سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سامنے آنے والا سانحہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ "انتظامی ناکامی” کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتی اور بروقت اقدامات کرتی تو اتنی بڑی تباہی کبھی نہ ہوتی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے 12 سالہ دورِ اقتدار میں بجٹ کو ترجیحات کے مطابق استعمال کرنے کے بجائے نمائشی منصوبوں پر توجہ دی۔ سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے نہ کوئی مستقل حکمت عملی تیار کی گئی اور نہ ہی ضلعی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کو فعال بنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی جان و مال کا تحفظ کرنے میں صوبائی حکومت بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ ناقدین کے مطابق صوبے کے حالیہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلاب نے نہ صرف سینکڑوں زندگیاں نگل لیں بلکہ حکمران جماعت کی ناقص کارکردگی کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ آخر 12 سالہ طویل اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی نے اپنی عوام کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے؟
وزیراعظم کی بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے کے بجٹ میں سالانہ اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں لیکن ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے مطابق:”پی ٹی آئی حکومت نے 12 برس میں تعلیم، صحت اور سڑکوں کے منصوبوں کا تو بارہا دعویٰ کیا، لیکن جب بات آفات سے نمٹنے کی آئی تو کوئی بھی عملی منصوبہ سامنے نہ آ سکا۔” پی ٹی آئی حکومت نے فنڈز کو نمائشی منصوبوں اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، جبکہ عوامی تحفظ کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بارش نے 12 سالہ حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا۔
مبصرین کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور وفاقی ادارے مل کر بارشوں اور سیلابوں سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی تیار کریں۔ صوبے میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، نکاسی آب کے منصوبوں کی تشکیل، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ پیشگی وارننگ سسٹم کو فعال کریں بصورت دیگر ہر سال بارش اور سیلاب عوام کے لیے ایک نئے عذاب کی صورت میں سامنے آتا رہے گا۔
