حکومت کے خاتمے تک احتجاجی تحریک جاری رکھیں گے ، پی ٹی آئی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج سے اپنی نئی احتجاجی مہم کا آغاز کر رہی ہے، جس کا مقصد بانی عمران خان اور دیگر قیدی رہنماؤں کی رہائی ہے۔ پارٹی قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہ تحریک موجودہ حکومت کے خاتمے تک جاری رکھی جائے گی۔
پارٹی رہنماؤں نے وضاحت کی کہ یہ مہم حتمی مرحلہ نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت نے تمام صوبائی تنظیموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریلیاں، عوامی رابطہ مہمات اور مختلف احتجاجی سرگرمیوں کا اہتمام کریں۔ رہنماؤں کے مطابق یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک موجودہ حکومت ختم نہیں ہو جاتی۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کے اصل نمائندے پارلیمنٹ میں موجود ہوں۔ پانچ اگست کا احتجاج عمران خان کی مبینہ کرپشن کیس میں گرفتاری کو دو سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس احتجاج میں معاشرے کے تمام طبقات کو شامل کیا جائے گا تاکہ ان کے حقوق کی ترجمانی کی جا سکے۔
اسد قیصر نے الزام عائد کیا کہ کارکنوں اور ارکانِ اسمبلی کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں، متعدد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، اور اصل اعداد و شمار اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب اور کشمیر میں چھاپوں کا آغاز ہو چکا ہے اور مختلف اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
ادھر، پی ٹی آئی پنجاب کے میڈیا سیل کے انچارج شایان بشیر نے سینیٹر علی ظفر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ پولیس نے تقریباً 200 چھاپے مارے اور پارٹی کارکنوں کو حراست میں لیا، جنہیں حلف نامے جمع کروانے کے بعد رہا کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی لاہور اور اڈیالہ جیل (راولپنڈی) کے باہر طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرے گی، جبکہ صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ کارکن اور حامی مختلف اضلاع سے لاہور پہنچ چکے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران سینیٹر علی ظفر نے مذاکرات سے متعلق ایک غیر واضح بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عمران خان نے مذاکرات کے دروازے بند کر دیے تھے، لیکن سیاست میں فیصلے وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ وہ عوام اور قانون کی بالادستی کے لیے 10 سال بھی جیل میں گزارنے کے لیے تیار ہیں، اور وہ کسی بھی دباؤ یا جعلی مقدمات کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
عمران خان اپنی تباہی کی سرنگ میں داخل ہو چکے،عرفان صدیقی
سینیٹر علی ظفر نے مزید بتایا کہ عمران خان نے دو شرائط کے تحت مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم حکومت نے انہیں تسلیم نہیں کیا، جس کے باعث بات چیت ناکام ہو گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت عمران خان پر چار بڑے مقدمات (توشہ خانہ، سائفر کیس، عدت کیس، القادر ٹرسٹ) پر انحصار کر رہی ہے، تاہم ان میں سے بیشتر ہائی کورٹ میں معطل یا خارج ہو چکے ہیں، صرف القادر کیس زیرِ سماعت ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان عدالتی عمل کے ذریعے رہائی حاصل کریں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ پر دباؤ ڈال کر انہیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن حکومت اس مقصد میں ناکام رہے گی۔
ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ سے متعلق سوال پر سینیٹر ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک سپریم کورٹ کسی نااہلی کو برقرار نہیں رکھتی، تب تک ضمنی انتخابات کا انعقاد قانونی جواز نہیں رکھتا۔ پی ٹی آئی اس معاملے پر عدالت سے رجوع کرے گی۔ واضح رہے کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد کئی رہنماؤں کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
