پاکستان پوسٹ میں خلاف قواعد بھرتی کیے گئے 381 افراد عہدوں پر براجمان ہیں ، جنید اکبر خان

چیئرمین کمیٹی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر خان نےکہا ہےکہ پاکستان پوسٹ میں خلاف قواعد بھرتی کیے گئے 381 افراد ابھی تک عہدوں پر بیٹھے ہیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ( پی اے سی ) کا اجلاس چیئرمین جنید اکبرخان کی زیر صدارت ہوا۔
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پوسٹل سروسزمیں غیر قانونی بھرتیوں پر رپورٹ طلب کرتےہوئے کہا کہ پاکستان پوسٹل سروسز میں 381 افراد کو خلاف ضابطہ بھرتی کیا گیا تھا۔
سیکریٹری مواصلات نےاجلاس کو بتایا کہ اس حوالے سے وزیر اعظم کی ہدایت پر تحقیقات جاری ہے، اس کیس میں ضرورت سےزیادہ بھرتیاں بھی رپورٹ ہوئی ہیں ، وزارتِ خزانہ سے ان بھرتیوں کے حوالے سے قانونی معاونت نہیں لی گئی۔
وزارت مواصلات حکام نےکہا کہ بھرتیوں میں 4 خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، این اوسی کا ایشو تھا اور کچھ اہلکاروں کو میرٹ کےبرخلاف بھرتی کیا گیا۔
کمیٹی چیئرمین کا کہنا تھا کہ جن کےخلاف انکوائریاں ہورہی ہے ان کی ترقی اورپوسٹنگ پر پابندی عائد ہے۔
سیکریٹری مواصلات کا کہنا تھا کہ فیکٹ فائنڈنگ اور محکمانہ انکوائری ہوئی جس کےبعد شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئےہیں، شوجاز نوٹس ملنے والوں کی ترقی نہیں ہوگی۔
بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کا حملہ ، ٹرین کو ہی یرغمال بنا لیا
بعد ازاں، پی اے سی نےشاہدہ اختر کی زیر صدارت پبلک اکاونٹس کی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی، ذیلی کمیٹی 2010 سے 2014 کےدرمیان کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لے گی۔
دوسری جانب پی اے سی کی عملدرآمد کمیٹی تشکیل دینےکا معاملہ موخر کردیا گیا، عملدرآمد کمیٹی کیلئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نامزد تھے تاہم ان کو وزارت ملنےکی وجہ سے ان سے پوچھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
این ڈی ایم اےکی جانب سے 304 ملین سیلاب ریلیف کی تھرڈ پارٹی آڈٹ نہ کرنے کے معاملے پر اڈٹ حکام نے بتایا کہ وزیر اعظم نےتھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت کی لیکن این ڈی ایم نے نہیں کرایا۔
پی اے سی نےایک مہینےمیں معاملہ حل کرنےکی ہدایت کردی۔
