ٹرانسفر سے بچنے کے لیے 4 عمرانڈو ججز نے گند ڈال دیا

 

عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے لیے ہمدردی رکھنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار متنازعہ ججز نے دوسری ہائی کورٹس میں اپنی ممکنہ ٹرانسفر رکوانے کے لیے گند ڈالنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ججز عدالتی معاملات کو سیاسی رنگ دے کر نہ صرف اپنی پوزیشن محفوظ بنانا چاہتے ہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر بے یقینی بھی بڑھا رہے ہیں۔

عدالتی حلقوں میں ’عمرانڈو‘ کہلانے والے چار ججز بشمول جسٹس بابر ستار، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس ثمن رفعت امتیاز اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، نے پارلیمنٹ کی جانب سے منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں قائم کردہ آئینی عدالت کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے، حالانکہ آئینی ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا بنیادی حق ہے اور ججز کو پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

جب ان چار عمرانڈو ججز نے 27ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ قانون کے مطابق اپنی درخواست وفاقی آئینی عدالت کے سامنے رکھیں جو کہ تمام آئینی اور سیاسی تنازعات طے کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ لیکن ججز نے موقف اختیار کیا کہ وہ آئینی عدالت کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم سے شروع ہونے والی منظم عدالتی نس بندی 27ویں ترمیم کے ذریعے اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ کہ رجسٹرار نے واضح کیا کہ اب کوئی بھی ائینی تنازعہ سپریم کورٹ نہیں بلکہ فیڈرل آیینی کوٹ ہی طے کرے گی اور سب کو نئے قائم شدہ آئینی ڈھانچے کے ساتھ ہی آگے بڑھنا ہوگا۔

اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اسلام اباد ہائی کورٹ کے چاروں ججز کو یقین ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اگلے چند ہفتوں میں ان کی دوسرے صوبوں کی ہائی کورٹس میں ٹرانسفر کر دی جائے گی، لہذا وہ فیصلہ سازوں کو ایسا کرنے سے روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے معذرت کے بعد وفاقیی آئینی عدالت کو بھیجی گئی ان چار ججز کی درخواست میں یہ موقف بیان کیا گیا تھا کہ نئی آئینی عدالت کا قیام، ججز کی ٹرانسفرز کو انتظامیہ کی خواہش کے تابع کرنا، اور عدالتی آزادی کو ادارہ جاتی طور پر محدود کرنا وہ خدشات ہیں جن کی جانب وہ پہلے بھی اشارہ کرتے رہے ہیں۔

ان ججز کے مطابق آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی ساخت میں اس قسم کی تبدیلیاں نہ صرف طاقت کا توازن بگاڑتی ہیں بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے سے بھی متصادم بھی ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحیی آفریدی ان تحفظات کو سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں یہ کہہ کر مسترد کر چکے ہیں کہ آئینی ترامیم پارلیمنٹ کا بنیادی حق ہیں اور عدلیہ ایک منتخب پارلیمنٹ کو ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی۔

دوسری جانب متنازعہ ججز کی جانب سے گند ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان چار ججز نے اب اپنے پانچویں ساتھی جج کے ساتھ مل کر ایک اور درخواست داخل کی یے جس میں انہوں نے اس امر کو چیلنج کیا کہ ان کی انٹرا کورٹ اپیل، جس میں تین ججز کی اسلام آباد منتقلی کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی، سپریم کورٹ سے ہٹا کر فیڈرل آئینی کورٹ کو کیوں منتقل کی گئی۔ اس اپیل کو اصل میں سپریم کورٹ ہی سن رہی تھی، مگر 27ویں ترمیم کے بعد اس کا فورم تبدیل کر دیا گیا۔ درخواست گزاروں نے بچگانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ آئینی اختیار کی غلط تشریح اور عدالتی دائرہ اختیار میں غیر ضروری مداخلت ہے۔

اسلام اباد ہائی کورٹ وہ موقف اختیار کیا ہے جسے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پہلے ہی رد کر چکے ہیں۔ چاروں سیاسی ججز کا یہ موقف ہے کہ سپریم کورٹ وہ واحد فورم ہے جسے آئینِ 1973 اپیل سننے کا اختیار دیتا ہے، اسلیے کسی نئی عدالت کی تشکیل ’’آئین کی روح‘‘ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی ایسی آئینی ترمیم جو اختیارات کے اس توازن کو چھیڑے جسے عدالتی آزادی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے، وہ ترمیم بذاتِ خود غیر آئینی قرار دی جا سکتی ہے۔

قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ اب ’’محض ایک کیس‘‘ نہیں رہا بلکہ ریاستی ڈھانچے کے اندر طاقت کی ازسرِنو تقسیم کا سوال بن چکا ہے۔ اگر فیڈرل آئینی کورٹ اپنے قیام کے بعد پہلی بڑی آزمائش میں کامیاب ہو جاتی ہے اور ججز کی یہ اعتراضات رد کر دیتی ہے، تو یہ پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک نئے دور کی شروعات ہو گی۔ لیکن اگر یہ عدالت اپنے ہی دائرہ اختیار پر فیصلہ کرنے میں مشکلات محسوس کرتی ہے تو اس سے پارلیمنٹ کے اختیار پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ آئینی عدالت کے روبرو یہ مقدمہ پہلے اس بات پر سنا جائے گا کہ آیا اسے اس اپیل کی سماعت کا اختیار ہے بھی یا نہیں۔ یہ مرحلہ خود اس عدالت کے وجودی جواز کی پہلی کسوٹی ہو گا۔ ادھر سپریم کورٹ میں بھی اس معاملے پر رائے منقسم دکھائی دیتی ہے، جسکے باعث ادارہ جاتی الجھنیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

مبصرین کے مطابق آنے والے چند ہفتے فیصلہ کن ہوں گے۔ یا تو پارلیمنٹ کی جانب سے متعین کردہ نیا عدالتی ڈھانچہ پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا، یا پھر اعلیٰ عدلیہ کی اندرونی مزاحمت اسے ایک بڑے آئینی بحران کی طرف دھکیل دے گی۔ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ پاکستان میں آئینی تشریح کا حتمی اختیار آخر کس کے پاس ہو گا یعنی پارلیمنٹ کے پاس یا سپریم کورٹ کے پاس؟ یہ بھی دیکھنا یو گا کہ فیڈرل آئینی عدالت اس نئے منظرنامے میں خود کو کیسے منواتی ہے۔

Back to top button