4 صوبائی وزرا کی میکڈونلڈ برانچ کا افتتاح کرنے پر دھلائی

خیبر پختونخوا کابینہ کے تین وزرا اور ایک مشیر بین الاقوامی فوڈ چین میکڈونلڈ کی پشاور میں ایک برانچ کا افتتاح کرنے کیا پہنچے، سوشل میڈیا صارفین نے ان پر طنز کے تیروں کی بارش کر دی اور یہ پوچھا جانے لگا کہ کیا صوبے کے عوام نے انہیں اس کام کے لیے منتخب کرکے اسمبلی میں بھیجا ہے؟

یاد رہے کہ اس سے پہلے صدر مملکت عارف علوی گورنر ہاؤس سندھ میں اپنے بیٹے کی نجی کمپنی کے ایک فنکشن کی صدارت کرنے پر سخت تنقید کی زد میں آئے تھے اور یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ذاتی بزنس کے فروغ کے لیے سرکاری ذرائع اور سرکاری پوزیشن کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن تازہ تنازعہ تب کھڑا ہوا جب ٹوئٹر پر فہیم نامی صارف نے ایک تصویر پوسٹ کی جس میں تین صوبائی وزرا اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات میکڈونلڈز ریستوران کا افتتاح کرتے نظر آرہے ہیں۔ یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے فہیم نے لکھا کہ ’ تین صوبائی وزرا اور ایک معاون خصوصی پشاور میں میکڈونلڈ کا افتتاح کر رہے ہیں۔ شاباش کے پی حکومت‘۔ بس اس کی کسر باقی رہ گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل افتتاح کی تصویر میں صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا، صوبائی وزیر تعلیم کامران بنگش اور صوبائی وزیر لوکل گورنمنٹ فیصل امین اور معاون خصوصی اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف دیگر افراد کے ساتھ نظر آرہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تصویر میں نظر آنے والے چار

میں سے دو وزراء کا اس شخص سے ذاتی تعلق ہے جس نے میکڈونلڈ کی فرنچائز کھولی ہے۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صحافی خاور گھمن نے خیبر پختونخوا میں حکمراں جماعت کی بلدیاتی الیکشن میں شکست کی وجہ کو بھی اس تصویر میں ڈھونڈ نکالا۔
تصویر شیئر کرتے ہوئے خاور گھمن نے لکھا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں الیکشن ہارنے کی وجہ یہی حرکات اور مصروفیات ہیں۔ ان کا کہنا تھا بجائے کہ صوبائی وزراء عوام کے مسائل حل کرنے گلیوں اور محلوں میں جائیں وہ انٹرنیشنل فوڈ چینز کے افتتاح کرنے میں مصروف ہیں۔ سخنئیر صحافی مبشر زیدی نے بھی یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے

خاندان کی صلح پر حکومت کا ناظم جوکھیو کیس لڑنے کا اعلان

دیا اور ٹوئٹر پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’منسٹرز کومبو اب میکڈونلڈز پشاور میں دستیاب ہے۔‘
دوسری جانب ماضی میں جنرل مشرف کے کاسہ لیس کا کردار ادا کرنے والے صوبائی معاون خصوصی اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے تصویر پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’صوبے میں ہمارے دوستانہ اور ذاتی تعلقات بھی ہیں اور صوبائی وزرا کا سب سے تعلق ہوتا ہے۔ پہلے پشاور میں دہشت گردی کی وجہ سے خوف و ہراس تھا اب یہاں ملٹی نیشنل کمپنیاں انوسمنٹ کر رہی ہیں جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم کامران بنگش نے بھی وضاحت دیتے یوئے بتایا کہ ’پشاور میں ایک ملٹی نیشنل برانڈ کی جانب سے نئے ریستوران کا افتتاح نوجوانوں لیے ایک اچھا اقدام ہے۔ ہمیں افتتاحی تقریب میں مدعو کیا گیا اور ہم اس

میں شامل ہوئے جس میں کوئی معیوب بات نہیں۔‘
تاہم حیات نامی صارف نے ایک اور تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس ریستوران کا افتتاح پہلے ایک ٹک ٹاکر سے بھی کرایا گیا تھا اور اب دوبارہ وزرا سے اس کا افتتاح کروا لیا گیا ہے۔ تیمور خان نامی صارف نے اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان کو مینشن کرتے ہوئے ان شکریہ ادا کیا کہ ’صوبائی حکومت ترقی کی جانب گامزن ہے، انہوں نے لکھا کہ تینوں وزرا کی محنت سے پشاور میں میکڈونلڈز کے برانچز میں مزید اضافہ ہوگا، باقی صوبے کے عوام اور ان کے مسائل کا اللہ ہی حافظ ہے۔

Back to top button