40 برس پہلے پی آئی اے کا فوکر طیارہ کیسے لاپتہ ہوا؟

ہوا بازی کی تاریخ طیاروں کی گمشدگی کے واقعات سے بھری پڑی ہے جن کی بڑی وجہ ان ممالک میں خراب موسم کو ہی قرار دیا جاتا ہے لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ آج سے 40 برس پہلے پاکستان کی قومی ائیر لائن پی آئی اے کا طیارہ بھی اپنے ہی ملک کی فضائی حدود میں گم ہوچکا ہے جس کا آج تک کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔
25 اگست 1979 پاکستان میں ہوا بازی کا انتہائی افسوسناک دن تھا جب پی آئی اے کا ایک فوکر طیارہ 54 مسافروں سمیت برف کی وادیوں میں کہیں کھوگیا اور آج تک اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا، اس حادثے کی تحقیقاتی رپورٹیں آج بھی وزارت دفاع کی فائلوں میں دفن ہیں۔
25 اگست 1979 کی ایک روشن صبح پی آئی اے کی پرواز 404 نے کیپٹن زبیر اور فرسٹ آفیسر بلگرامی سمیت 54 مسافروں کے ساتھ فلک بوس پہاڑوں کے درمیان گلگت ائیرپورٹ سے اڑان بھری اور کچھ دیر بعد ہی طیارے کا رابطہ منقطع ہو گیا۔
وزارت دفاع کی الماریوں میں بند فائلوں سے باہر آنے والی کچھ معلومات کے مطابق پرواز کے دس منٹ بعد دو مغربی باشندوں نے طیارے کو نانگا پربت سے دیکھا، آزاد کشمیر کے کیل سیکٹر میں تعینات پاک فوج کے 32ویں بریگیڈ کے کیپٹن طارق نے طیارہ مقبوضہ کشمیر کی جانب جانے کی اطلاع دی۔
ذرائع کے مطابق اس واقعے سے ایک ہفتہ پہلے کشمیر کے سلگتے محاذ پر ایک اہم واقعہ پیش آیا تھا جب پاکستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن طاہر صدیقی دوران پرواز راستہ بھٹک کر سری نگر جا پہنچے تھے لیکن بحفاظت واپس آگئے، اس پر بھارت نے اپنی پوری ناردرن کمانڈ تبدیل کردی تھی، لاپتہ فوکر طیارے کو تلاش کرنے کےلیے متعدد ہیلی کاپٹرز اور طیاروں نے 83 پروازیں بھریں جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔
سرکاری طور پر تمام 54 افراد کو مردہ قرار دے کر ان کے لواحقین کو معاوضے دیئے جا چکے ہیں لیکن یہ راز ہی رہا کہ آخر اس بدقسمت طیارے کے ساتھ ہوا کیا تھا؟ سرکاری طور پر 40 برس کی مسلسل خاموشی نے کئی مفروضوں کو جنم دیا ہے۔ ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ فوکر طیارہ راستہ بھٹک کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوگیا ہو جسے بھارتی فورسز کی جانب سے مار گرایا گیا ہو، تاہم جو بھی ہوا طیارے میں سوار مسافروں کے لواحقین کو آج تک یہ جواب نہیں مل پایا کہ بدقسمت فوکر طیارے کے مسافروں پر آخر کیا گزری تھی اور ان کا انجام کیا ہوا تھا؟
