ایران سے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے40 ممالک اکٹھےہوگئے

برطانیہ کی وزیرخارجہ یوویٹ کوپر نے کہا ہے کہ 40 ممالک ایران کو عالمی معیشت وک یرغمال بنانے سے روکنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں اور اس حوالے سے وزرائے خارجہ کا آن لائن اجلاس منعقد ہوا۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی وزیرخارجہ یوویٹ کوپر کی صدارت میں 40 ممالک کا ورچوئل اجلاس ہوا، جس میں فرانس، جرمنی، کینیڈا، متحدہ عرب امارات اور بھارت سمیت دیگر ممالک نے شرکت کی۔
برطانوی وزیرخارجہ نے کہا کہ 40 ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ ایران کو عالمی معیشت کو یرغمال بنانے سے روکا جا سکے اور اس آبی راستے کی ناکہ بندی میں ایران کی لاپرواہی ہماری عالمی اقتصادی سلامتی کو متاثر کر رہی ہے۔
اجلاس کے آغاز میں میڈیا کو نشر کیے گئے حصے میں انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ ایران نے ایک بین الاقوامی بحری راستے کو ہائی جیک کر کے عالمی معیشت کو یرغمال بنا لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک عہدیدار نے بتایا کہ امریکا نے ان مذاکرات میں شرکت نہیں کی تاہم تقریباً 40 ممالک کے نمائندوں کا باقی اجلاس بند کمرے میں ہوا۔
برطانیہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے وہ آئندہ ہفتے فوجی منصوبہ سازوں کا ایک اجلاس منعقد کرے گا۔
اجلاس کے حوالے سے یورپی سفارت کاروں نے بتایا کہ اس اتحاد کی تشکیل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، جس کی قیادت برطانیہ اور فرانس کر رہے ہیں اور اجلاس میں ہونے والی بات چیت اس بات پر مرکوز ہوگی کہ کون سے ممالک اس میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔
