سوڈان میں ہیضہ کی وبا سے 40افراد جان کی بازی ہار گئے

سوڈان کے ڈارفور خطے میں ہیضہ کی وبا نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہفتے کے دوران کم از کم 40 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے مطابق ڈارفور، جو گزشتہ دو برسوں سے خانہ جنگی کا شکار ہے، وبا سے شدید متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ خانہ جنگی کے ساتھ ساتھ عوام اب ہیضہ کی سنگین لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایم ایس ایف کے مطابق صرف ڈارفور میں گزشتہ ہفتے کے دوران ان کی ٹیموں نے 2,300 سے زائد مریضوں کا علاج کیا، جن میں سے 40 جانبر نہ ہوسکے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2024 سے 11 اگست 2025 تک سوڈان بھر میں ہیضہ کے تقریباً ایک لاکھ کیس رپورٹ ہوئے، جن میں 2,470 اموات ہوئیں۔

ہیضہ کا علاج نسبتاً آسان ہے، لیکن بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ ایم ایس ایف نے نشاندہی کی کہ خانہ جنگی سے بے گھر ہونے والے افراد کو صاف پانی کی فراہمی میسر نہ ہونے کے باعث پناہ گزین کیمپوں میں وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔

Back to top button