امریکی امیگریشن کے منتظر 4 ہزار PTI سپورٹرز فارغ ہو گئے

صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانیوں کی امیگریشن پر عارضی پابندی کے فیصلے کے بعد امریکہ میں موجود تحریکِ انصاف کے 4000 سے زائد حامیوں کے امیگریشن اور شہریت کے کیسز التوا کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت امریکہ میں قانونی طور پر موجود ہیں اور سیاسی پناہ، مستقل رہائش یا امریکی شہریت کے منتظر تھے، تاہم نئی پالیسی کے باعث ان کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو چکا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق امریکی امیگریشن کے لیے درخواستیں دائر کرنے والے تقریباً 40 فیصد پاکستانی کسی نہ کسی صورت امریکی فلاحی پروگرامز سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ انہی اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر صدر ٹرمپ نے یہ سخت فیصلہ کیا کہ پاکستانی شہریوں کے امیگریشن عمل کو عارضی طور پر معطل کر دیا جائے۔ اگرچہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ایک الگ بحث ہے، تاہم اس فیصلے کا براہِ راست خمیازہ عام، محنت کش اور قانونی طریقے سے امریکہ میں مقیم پاکستانی امیگرینٹس کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
واشنگٹن میں امیگریشن کیسز کرنے والی ایک معروف فرم کے سربراہ نے بتایا کہ اس وقت ان کی فرم کے پاس چار ہزار سے زائد پاکستانیوں کے امیگریشن کیسز زیرِ التوا ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں ہزاروں پاکستانیوں نے تحریکِ انصاف سے وابستگی کو بنیاد بنا کر سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کیں، جن میں سے بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو 2022 کے بعد امریکہ پہنچے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے نے امریکہ جانے کے خواہش مند لاکھوں امیگرینٹس کے خواب چکنا چور کر دیے ہیں۔ پاکستان سمیت کم از کم 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگریشن کے دروازے عملی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ وہ تمام افراد جن کے امیگریشن، سیاسی پناہ یا شہریت کے مقدمات امریکی محکمہ امیگریشن میں زیرِ التوا تھے، اب غیر معینہ مدت کے لیے منجمد ہو چکے ہیں۔
یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے تحت سامنے آیا ہے۔ اس قانون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایسے غیر ملکی شہری جن کے بارے میں یہ خدشہ ہو کہ وہ مستقبل میں امریکی حکومتی فلاحی پروگرامز پر بوجھ بن سکتے ہیں، انہیں امریکہ میں داخلے یا مستقل قیام کی اجازت نہ دی جائے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان 75 ممالک سے آنے والے افراد، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، ماضی میں امریکی سماجی امدادی نظام سے غیر متناسب فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
امیگریشن ماہرین کے مطابق امریکی حکام نے فلاحی پروگرامز اور سماجی سہولتوں سے استفادہ کرنے والوں کا ڈیٹا بنیاد بنا کر یہ پالیسی تیار کی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان پروگرامز سے فائدہ اٹھانا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں اور اکثر قانونی امیگرینٹس ابتدائی برسوں میں محدود سہولیات استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ نئے ضابطوں کے تحت سیاسی پناہ کی درخواستیں، ملازمت کی بنیاد پر سپانسرشپ، ہنرمند افراد کے ویزے، حتیٰ کہ امریکی شہری سے شادی کی بنیاد پر امیگریشن کے راستے بھی شدید خطرات سے دوچار ہو گئے ہیں۔
امیگریشن وکلا کے مطابق اس فیصلے نے لاکھوں افراد کے لیے محض ایک پالیسی تبدیلی نہیں بلکہ ان کی پوری زندگی کی منصوبہ بندی کو تہس نہس کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ صرف کاغذی فائلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہزاروں خاندانوں کے مستقبل کو بھی غیر یقینی اندھیرے میں دھکیل چکا ہے۔ امریکہ میں بہتر زندگی، سیاسی آزادی اور تحفظ کے خواب دیکھنے والے ہزاروں پاکستانی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ وہ افراد جنہوں نے سچ یا جھوٹ، کسی بھی بنیاد پر سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کر رکھی تھیں، اب خود کو ایک قانونی خلا میں پھنسا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔
اگرچہ کئی ایسے پاکستانیوں کے پاس فی الحال ورک پرمٹس موجود ہیں، تاہم نئی پالیسی کے بعد ان پرمٹس کی تجدید اور مستقل حیثیت کے امکانات بھی سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانیوں کی امیگریشن پر لگائی گئی پابندی لمبی ہوئی تو ہزاروں پاکستانیوں کو یا تو امریکہ چھوڑنا پڑے گا یا طویل قانونی جنگ کا سامنا کرنا ہوگا۔ خیال رہے کہ یہ پالیسی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور آنے والے دنوں میں پاکستان اور دیگر ممالک کے شہریوں کے خلاف مزید سخت اقدامات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے پاکستان کو کیا نقصان ہو گا؟
اس صورتحال کے بعد امریکہ میں مقیم متاثرہ ممالک کے شہری متبادل راستوں کی تلاش میں کینیڈا کا رخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم امیگریشن ماہرین کے مطابق وہاں بھی قوانین تیزی سے سخت ہو رہے ہیں۔ یوں شمالی امریکہ میں پناہ یا مستقل قیام کا خواب دن بدن معدوم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ میں موجود وہ ہزاروں پاکستانی جو برسوں سے امریکی شہریت کے منتظر تھے، ان کے لیے یہ خبر کسی سانحے سے کم نہیں۔ اسلام آباد کے سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ سے سفارتی رابطے شروع کر دیے ہیں، تاہم امریکی سیاست پر نظر رکھنے والے حلقوں کے مطابق صدر ٹرمپ فیصلے کرتے وقت نہ دوست دیکھتے ہیں اور نہ اتحادی، بلکہ داخلی سیاسی بیانیے اور ووٹرز کو ترجیح دیتے ہیں۔
