50 لاکھ گھروں کا منصوبہ ناکامی سے بچانے کی کوشش شروع

کپتان حکومت نے اپنا پچاس لاکھ گھروں کا منصوبہ ناکام ہوتے دیکھ کرسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے ان بینکوں کو جرمانہ عائد کرنے کی وارننگ جاری کر دی ہے جنہوں نے ہاؤسنگ اسکیم کے لیے لوگوں کو قرضے دینے کے لازمی اہداف پورے نہیں کیے۔
مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 31 جولائی 2021 سے حکومت کی مارک اپ سبسڈی اسکیم کے ہدف پورے نہ کرنے والے بینکوں پر جرمانے عائد کیے جائے گے۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بینک پر جرمانہ ہاؤسنگ یونٹس کی تعداد اور رقم کی ادائیگی سے متعلق دونوں اہداف کی ناکامی پر لاگو ہوگا۔ یاد رہے کہ کپتان حکومت کی جانب سے غریب لوگوں کو 50 لاکھ گھر فراہم کرنے کا نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ سست روی کی وجہ سے ناکامی کا شکار ہوتا نظر آتا ہے اور سرکاری اندازے کے مطابق حکومت کی مدت اقتدار پوری ہونے تک صرف 5000 یعنی ایک فیصد مکانات ہی تعمیر کیے جا سکیں گے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان مکانوں کے حصول میں لوگوں نے اس طرح دلچسپی ظاہر نہیں کی جیسا کہ حکومت کو توقع تھی۔ حکومت نے ان مکانوں کے حصول کے لیے بینکوں کے ذریعے خواہش مند افراد کو قرضے جاری کرنے کی سہولت بھی دی تھی۔ لیکن ایک تو قرضے حاصل کرنے کا طریقہ کار بہت دشوار ہے اور دوسرا ان پر سود کی شرح بہت زیادہ ہے جس وجہ سے یہ سکیم کی ناکام ہوتی نظر آتی ہے۔
یاد رہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے جو سب سے اہم اور انقلابی وعدہ کیا تھا وہ غریب طبقے کو 50 لاکھ گھر بناکر دینے کا تھا، لہازا اس وعدے کی تکمیل کے لیے اقتدار میں آنے کے بعد نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام لانچ کیا گیا جس کے لیے کم آمدنی والے طبقے کو رعایتی شرح پر قرضے دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔ تاہم اب یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کچھوے کی رفتار سے چل رہا ہے اور پچھلے تین برس میں اب تک صرف 1500 مکانات ہی تعمیر کیے جا سکے ہیں۔ مختلف شہروں میں جو ہاؤسنگ یونٹس زیر تعمیر ہیں انکی تعداد 3500 ہے جو 2022 کے آخر یا 2023 کے آغاز تک مکمل ہوں گے۔ یعنی کپتان حکومت کی مدت پوری ہونے تک پانچ لاکھ مکانات کی بجائے صرف 5000 مکانات ہی مکمل ہو سکیں گے جو کہ ٹوٹل منصوبے کے ایک فیصد مکانات بنتے ہیں۔ اتنے کم مکانات کی تعمیر بارے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنے ہی مکان تعمیر کیے جائیں گے جتنی ڈیمانڈ ہوگی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بینک بھی اس رہائشی منصوبے کے تحت بننے والے مکانات کے لیے قرضے دینے میں کنجوسی برت رہے ہیں، موجودہ حکومت کا بنیادی ایجنڈا ایک کروڑ ملازمتیں، اور کم آمدنی والے 50 لاکھ مکانات کی فراہمی ہے لیکن 3 برس گزرنے کے بعد بھی اس سمت میں کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔ کراچی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک
تازہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ 31 جولائی 2021 تک مجموعی اہداف سے کم قرضے جاری کرنے پر متعلقہ بینکوں پر بیس لائن جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ اگلے مہینوں کے اہداف میں کمی پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ بینکوں کی جانب سے اس ہاوسنگ اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ سرکلر میں کہا گیا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو اسٹیٹ بینک دیگر بینکوں سے معلومات اکٹھی کرے گا جو اپنے اہداف کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں‘۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جون کے وسط میں اسٹیٹ بینک نے بینکوں سے کہا تھا کہ وہ اپنی غیر رسمی آمدنی والے پراکسی ماڈل کے ساتھ 4 ہفتوں کے اندر اندر کم لاگت والی رہائشی منصوبے کے لیے قرضوں کی تجاویز پیش کریں کیونکہ قرض دینے کا عمل حکومت کی توقعات سے کہیں کم ہے۔ اسٹیٹ بینک نے غیر رسمی آمدنی والے کم لاگت ہاؤسنگ فنانس درخواست دہندگان کی سہولت کے لیے بھی بینکوں سے کہا ہے کہ وہ ایسے درخواست دہندگان کو کم لاگت ہاؤسنگ فنانس میں توسیع کے لیے انکم تخمینہ ماڈل تیار کریں۔
دوسری جانب نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کی ناکامی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مکانات کو آمدن کے لحاظ سے 15 سے 20 سال کی قسطوں پر دیا جا رہانہے اور قسطیں پوری ہونے تک مکان کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا جس وجہ سے لوگ اس سکیم میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ اسکے علاوہ ان مکانوں کی تعمیر میں حکومت کا رول صرف معاون کا ہے جبکہ اسے نجی شعبہ تعمیر کر رہا ہے۔
کیونکہ غریب لوگ اپنی کم آمدن کی وجہ سے مکان نہیں خرید سکتے لہٰذا حکومت نے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروجیکٹ کے تحت ان مکانوں کے حصول کے لیے بینکوں سے قرضے کی سہولت بھی رکھی تھی۔ لیکن پاکستان میں بینکوں سے قسطوں پر مکان حاصل کرنے کی شرح صفر ہے کیونکہ یہاں قرضہ لینے والے کا اعتبار نہیں کیا جاتا اور اس لیے اسے قرضہ بھی نہیں ملتا۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں جن ممالک میں مکانوں کی مورگیج کا ماڈل کامیابی سے چل رہا ہے وہاں اس سیکٹر میں شرحِ سود چار فیصد کے لگ بھگ ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں فی الوقت بنیادی شرح ساڑھے آٹھ فیصد ہے اور حکومت کے آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے بعد اس میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر کم آمدن والے طبقے کو نیا پاکستان منصوبے کے تحت پانچ سے سات مرلے کا مکان بینک سے قسطوں پر مل بھی جائے تو وہ ادائیگیاں نہیں کر سکے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ کم آمدن والے افراد کے لیے ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کم آمدن سے مطلب ماہانہ 25 ہزار آمدن بھی ہو تو کیا وہ مکان کی دس ہزار روپے قسط دے سکے گا اور اگر قسط اس سے کم ہوتی ہے تو ادائیگی میں بیسیوں سال لگ جائیں گے، لہازا کون اتنی معاشی قیمت چکان پر تیار ہو گا۔
اسی لیے حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سستے مکانات کی ترغیب کے باوجود ہاؤسنگ منصوبے کے لیے قرض کے حصول کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔
