آئینی ترمیم میں ساتھ دینےوالےغیرحکومتی اراکین کو50 کروڑ کی آفر

آئینی ترمیم میں ساتھ دینےوالےغیرحکومتی اراکین کو50 کروڑکی آفر کیےجانےکا انکشاف،پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنےآگئی۔
پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنےآگئی ہے۔جس کے مطابق آئینی ترامیم پرمشاورت سےقبل اپوزیشن لیڈر نےپی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو ہراساں کرن کامعاملہ اٹھایا۔
عمرایوب کےاجلاس میں الزامات
ذرائع کےمطابق اپوزیشن لیڈرعمرایوب کاکہنا تھا کہ ہمارےارکان اسمبلی کےگھروں پرغیرقانونی چھاپےمارےجارہےہیں۔ارکان اسمبلی کےکاروبار کو زبردستی بند کروایاجا رہا ہے۔
عمر ایوب کےمطابق عمران خان سےملاقات بند کردی گئی۔کئی روز سےان کو قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
وزیرقانون کا عمرایوب کو جواب
ذرائع کےمطابق کمیٹی میں موجود وزیر قانون اعظم نذیرتارڑنےعمرایوب کے الزامات کےجواب میں کہا کہ یہ کمیٹی آئینی ترامیم سےمتعلق ہےاس پربات کرتے ہیں۔
ذرائع کےمطابق اپوزیشن لیڈرعمرایوب کایہ بھی کہنا تھا کہ اس کمیٹی کا ٹائٹل آف میٹنگ ہی غلط ہے۔یہ کمیٹی قومی اسمبلی کےاندرسےارکان اسمبلی کی گرفتاری اور ارکان کےاستحقاق سےمتعلق بنائی گئی تھی۔
عمران خان سےسہولیات واپسی کی خبریں بے بنیاد قرار
عمر ایوب کےمطابق اس کمیٹی میں آپ آئینی ترامیم لےآئےہیں اورچاہتےہیں بس یہ کسی طرح منظورکروالیں۔
ذرائع کے مطابق انہوں نےکہا کہ ہمارےبعض ارکان کوقابو کرنےکے لیےچھاپےمارے جارہے ہیں یاپیسوں کی آفرزدی جا رہی ہیں۔
عمرایوب کا اہم انکشاف
انہوں نےانکشاف کیا کہ ارکان اسمبلی کو50کروڑ تک کی آفربھی کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ آئینی ترامیم عدالتوں پر ڈرون حملہ ہے۔
کمیٹی اجلاس میں پیدا ہونے والی صورتحال چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ اور دیگر ممبران نے مداخلت کی، سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اعظم نذیر تارڑ صاحب آپ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے تحفظات دور کریں۔
ذرائع کے مطابق خورشید کی مداخلت کے بعد وزیرقانون کی یقین دہانی کروائی کہ میں یہ معاملہ وفاقی کابینہ اجلاس میں اٹھاؤں گا۔
بیرسٹرگوہر کاعمران خان سے ملاقات کا مطالبہ
اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ آپ پہلے ہماری عمران خان سے ملاقات کروائیں۔ ہماری جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوُجاتی ہم مسودہ نہیں دے سکتے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق کروڑوں ووٹر عمران خان کی صحت سے متعلق اضطراب میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی اجلاس میں حکومتی رکن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے علاوہ سب جماعتوں کےآئینی ترامیم سے متعلق مسودہ کمیٹی میں آ چکے ہیں۔
رکن کمیٹی کا کہنا تھا کہ عمر ایوب صاحب وہ کہ رہے ہیں آئینی ترامیم کا عمل جلدی مکمل کریں۔
ذرائع کے مطابق اس پر عمر ایوب نے جواب دیا کہ جن کو بہت جلدی آپ ان کا نام لیں۔کیا انہوں نے آپ کو کوئی ٹائم فریم بھی دیا ہے۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم پر ہمارے تحفظات دور کریں اور اعتماد میں لیں۔یا پھر آئینی ترامیم پر مشاورت 25 اکتوبر کے بعد ہی ہو گی۔
