5000 کی رشوت جوہر ٹاؤن بم دھماکے کا باعث کیسے بنی؟

پنجاب پولیس کے ایک کانسٹیبل کی جانب سے پانچ ہزار روپے کی رشوت وصولی کے عوض ناکے سے ایک گاڑی کو بغیر تلاشی جانے کی اجازت دینے کے نتیجے میں 23 جون 2021 کو جوہر ٹاؤن لاہور میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے جو کہ دھماکے کے مقام سے چند گھروں کے فاصلے پر مقیم تھے۔ دہشت گرد گاڑی ان کے گھر تک لے جانا چاہتا تھا لیکن وہ پولیس ناکے کی وجہ سے آگے نہ جا سکا اور گاڑی کچھ فاصلے پر پارک کر دی۔ یوں حافظ سعید اور ان کے اہل خانہ دھماکے میں محفوظ رہے۔
معروف صحافی اور اینکر پرسن جاوید چودھری نے اپنی تازہ ترین تحریر میں انکشاف کیا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی کار کو لاہور میں داخلے کے وقت روکا جا سکتا تھا لیکن ایک لالچی کانسٹیبل نے پانچ ہزار کے کے عوض بغیر تلاشی کے گاڑی کو شہر میں داخلے کی اجازت دے دی۔ جاوید چودھری اس واردات کی مکمل کہانی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جھنگ شہر کی خضر کالونی میں عیدگل خان نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ یہ حاجی ذاکر خان کا بیٹا تھا۔ افغان نژاد تھا لیکن یہ پاکستان ہی میں پیدا ہوا۔ یہ تین سال قبل مزدوری کے سلسلے میں دوبئی گیا۔ اسے وہاں نوید نام کا ایک پاکستانی ملا جو بھارتی ایجنسی را کے لیے کام کرتا تھا۔ نوید نے اس کے ساتھ دوستی لگائی اور آہستہ آہستہ اسے اپنے شیشے میں اتار لیا۔ اس پر مکمل اعتماد ہو گیا تو نوید نے عید گل کو بم بنانے کا طریقہ سکھایا۔ اسے یوریا، چینی، بارود، بیٹری اور ٹائمر لگانے، بم میں بال بیرنگ بھرنے اور پھر تیار بم کو گاڑی میں نصب کرانے کا طریقہ سکھایا اور پاکستان بھجوا دیا۔ اس کے بعد چار مرتبہ دوبئی گیا۔ را والوں نے 2021 کے شروع میں عید گل کو دھماکے کا ٹاسک دے دیا اور اسکے ساتھ دو کروڑ روپے میں سودا طے ہوا۔ ایک کروڑ روپے اسے دے دیے گئے جب کہ باقی رقم اسے کام کے بعد ملنی تھی۔
جاوید چودھری کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی عیدگل کو کراچی کے ایک ایجنٹ پیٹرپال نے دی۔ یہ 55 سال کا پاکستانی شہری یورپ میں رہتا تھا اور پاکستان آتا جاتا رہتا تھا۔ گاڑی سیاہ رنگ کی ٹویوٹا کرولا تھی جسکا ماڈل 2010 تھا اور یہ چوری کی گئی تھی۔ پیٹر پال نے گاڑی ٹمپرڈ کرائی اور عیدگل کے حوالے کر دی۔ پیٹر پال خود بھی دھماکے کے دن لاہور میں تھا اور یہ کام مکمل ہونے کے بعد کراچی کی فلائیٹ میں سوار ہو گیا تھا لیکن خفیہ ادارے جہاز اڑنے سے پہلے اس تک پہنچ گئے اور اسے آف لوڈ کر کے گرفتار کر لیا۔ عید گل نے جون کے دوسرے ہفتے مارکیٹ سے بم بنانے کا سامان خریدا۔ بم بنایا اور سوات کے ایک موٹر مکینک کو 20 لاکھ روپے دے کر اسے ڈکی میں فٹ کرا لیا۔ جاوید چودھری کے مطابق مکینک نے ڈکی کا لاک بھی فکس کر دیا تا کہ جب ڈکی کھولنے کی کوشش کی جائے تو ایسا محسوس ہو کہ لاک پھنس گیا ہے اور یوں گاڑی کی تلاشی نہ ہو سکے۔ دوسری طرف جوہر ٹائون میں حافظ سعید کے گھر کے قریب را کا ایک ایجنٹ اڑھائی برسوں سے رہ رہا تھا، اس نے کرائے پرمکان لے رکھا تھا۔ وہ علاقے کی ریکی بھی کر چکا تھا اور اس نے حافظ سعید کی لوکیشن بھی را والوں کو بھجوا دی تھی۔ دوبئی والے نوید نے عیدگل کا اس شخص کے ساتھ رابطہ کرا دیا۔ اب دھماکے کا پلان تیار تھا۔ عید گل گاڑی لے کر 23 جون کی صبح لاہور پہنچا۔ بابوصابو انٹرچینج پر آیا تو وہاں اینٹی کار لفٹنگ فورس نے ناکہ لگایا ہوا تھا۔ کانسٹیبل نے عید گل اور اس کی گاڑی ایل ای بی 9928 بھی روک لی اور اسے ڈکی کھولنے کا کہا۔ عیدگل نے ڈکی کا لیور دبایا۔ کانسٹیبل نے ڈکی کھولی لیکن اس کا لاک فکسڈ تھا۔ عیدگل اس دوران کانسٹیبل کے پاس آیا، اس کی مٹھی میں ہزار روپے دیے اور کہا کہ مجھے دیر ہو رہی ہے، تم یہ رکھو اور مجھے جانے دو۔ لہکن پولیس کانسٹیبل نے ہزار روپے واپس کر کے 5000 روپے کا مطالبہ کیا۔ عیدگل نے اسے پانچ ہزار روپے دے دیے اور کانسٹیبل نے اسے گاڑی لے جانے کی اجازت دے دی۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ میں اس ایمان فروش پولیس کانسٹیبل کو جوہر ٹائون دھماکے کا اصل ذمے دار سمجھتا ہوں کیوں کہ اس شخص نے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا کہ یہ شخص اسے معمولی سے کام کے لیے 5000 روپے کیوں دے رہا ہے؟ لہٰذا اس کانسٹیبل کی مکروہ حرکت کی وجہ سے لوگوں کی جان بھی گئی اور پاکستان کو 25 جون کو ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں سبکی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ دراصل انڈیا نے یہ دھماکا پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے لیے کرایا تھا اور چاہتا تھا کہ میٹنگ کے دن عالمی میڈیا میں حافظ سعید کا نام آئے اور پاکستان وائیٹ لسٹ میں نہ جا سکے۔ اس کانسٹیبل نے صرف پانچ ہزار روپے کے لیے ملک کی عزت اور لوگوں کی جانیں دونوں کو دائو پر لگا دیا۔
بہرحال جاوید چودھری بتاتے ہیں کہ عیدگل لاہور میں داخل ہوا، جوہر ٹائون گیا۔ ڈی ایس ایس پبلک اسکول کے قریب پہنچا۔ اس نے فیصل بینک کی گلی میں گاڑی روکی اور وہاں موجود دو بندوں سے کہا کہ میری گاڑی خراب ہو گئی ہے لہازا میں مکینک لینے جا رہا ہوں۔ 11 بج کر آٹھ منٹ پر دھماکا ہوا اور گاڑی کے پرخچے اڑ گئے۔ تین لوگ جاں بحق ہو گئے جن میں پولیس کے دو اہلکار بھی شامل تھے۔ 20 لوگ زخمی ہوئے اور گلی اور گھروں میں کھڑی 12 گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ جاوید کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ عیدگل اگر گاڑی آگے لے جاتا اور ہجوم میں کھڑی کر دیتا تو کم از کم چالیس پچاس لوگ مارے جاتے۔ پولیس کا دعویٰ ہے عیدگل پولیس ناکے کی وجہ سے آگے نہ جا سکا۔
بہرحال دھماکا ہوا، پولیس، سی ٹی ڈی اور خفیہ اداروں نے علاقے کی جیو فینسنگ کی، پیٹرپال جہاز سے گرفتار ہو گیا۔ عید گل راولپنڈی سے پکڑا گیا، نوید دوبئی میں تھا لیکن اس کا خاندان پاکستان میں تھا، اس کا والد اور بھائی بھی گرفتار ہو گئے، عید گل کی بیوی بھی گرفتار ہو گئی، پولیس گاڑی ٹمپرڈ کرنے اور ڈکی میں بم لگانے والے تک بھی پہنچ گئی اور خفیہ اداروں نے بھارت میں موجود ماسٹر مائینڈ کو بھی ٹریس کر لیا۔ یوں راکا پورا نیٹ ورک 16 گھنٹوں میں پکڑا گیا۔ لیکن وہ پولیس اہلکار جس نے بابو صابو انٹرچینج پر پانچ ہزار روپے کے عوض گاڑی کو لاہور میں داخل ہونے کی اجازت دے دی تھی، وہ قابل مذمت بھی ہے اور اس کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ عیدگل نے دو جولائی کو شناخت پریڈ کے دوران بھی اس شخص کی نشان دہی کی تھی لیکن پولیس نے ابھی تک اس کانسٹیبل سے تفتیش نہیں کی۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہم سب کی حفاظت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو ضمیر کی آواز کے باوجود پانچ ہزار کے عوض پورے شہر کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ جاوید چودھری کہتے ہیں کہ اگر ہم اگر واقعی اس ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اس کے سارے سسٹم دوبارہ بنانا پڑیں گے کیونکہ نیا پاکستان ایسے نہیں چل سکتا۔
