دوغلی کرونا پالیسی عوام کو موت کی وادی میں دھکیل دے گی

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کرونا لاک ڈاون کے حوالے سے دوغلی پالیسی اور مسلسل کنفیوژڈ گفتگو کے باعث اب ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جن میں صاف نظر آتا ہے کہ پاکستانی عوام نے کرونا سے لڑنا کم ہے اور مرنا زیادہ ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے رمضان المبارک کے آغاز پر لاک ڈاؤن کو سمارٹ لاک ڈاؤن میں تبدیل کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی عوام نے لاک ڈاؤن کا مکمل بھرکس نکال دیا ۔ کپتان نے یہ اعلان تب کیا جب ہر صوبے کے ڈاکٹر اور صحت کے ماہرین ہاتھ جوڑ کر یہ استدعا کر رہے تھے کہ خدارا خود پر اور ہم پر رحم کیجیے۔ اس بیماری اور اس کے پیچھے کھڑی وبا کو مذاق مت سمجھیے۔ مگر انکی ہر درخواست بےاثر رہی۔
وزیراعظم کی جانب سے لاک ڈاؤن کو اسمارٹ کئے جانے کے اعلان کے بعد پورے ملک کے بیشتر حصوں میں جگہ جگہ پر اب ایک جم غفیر ہے جو سینہ تان کر اور ماسک اتار کر گھوم رہا ہے۔ چنانچہ اموات کی شرح اسی خطرناک رفتار سے بڑھ رہی ہے جس کی طرف ڈاکٹرز اشارہ کر رہے تھے۔ محدود ترین کرونا ٹیسٹ کرنے کے باوجود ہماری اوسط انفیکشن کی شرح پریشان کن حد تک اٹلی سے مماثلت رکھتی ہے لیکن عوام ہیں کہ سنبھلنے کی طرف مائل ہی نہیں۔
ڈاکٹرز کی طرف سے جاری کردہ انتباہ کا سب سے خطرناک پہلو صحت کے ان محافظوں کی اپنی اموات اور بڑھتے ہوئی انفیکشنز کے امکانات ہیں۔ خیبر پختونخوا اور اس سے پہلے گلگت میں ڈاکٹرز کی شہادت واضح انداز میں بتا رہی ہے کہ موت اس وائرس کی گھٹی میں پڑی ہے۔ اس کو جہاں بھی موقع ملے گا یہ جان کس لے گا اور اگر خدانخواستہ ہمارے ڈاکٹرز، نرسز اور ان کا مددگار سٹاف اس کی بھینٹ چڑھنا شروع ہو گیا تو ہسپتالوں میں مریضوں کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ پھر وہ ہسپتال جہاں پر دوسرے امراض کا علاج ہو رہا ہے یا جہاں دوسرے مریض شدید طبی امداد کی طلب میں ہیں، کرونا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب حقیقی امکانات کسی تبدیلی کا باعث نہیں بنے۔ عام عوام اب لاک ڈاؤن کی بات سننے کو تیار ہی نہیں۔ پولیس جس کے اپنے لوگ اس وائرس کی زد میں آ چکے ہیں عوام کو روکنے سے قاصر ہے۔ پولیس بازاروں میں دکانداروں کی دکانیں بند کروا سکتی ہے مگر زندگی کے اس بہاؤ کو نہیں روک سکتی جو آپ کو ہر سڑک، عبادت گاہ اور خرید و فروخت کے میدان میں نظر آ رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک بدترین بحران کی طرف بےلگام گھوڑے کی طرح بھاگے جا رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس بھیڑ میں ہر کوئی ایک دوسرے کو یہ سمجھا رہا ہے کہ ادھر موت ہے لیکن پھر خود ہی اس سمت لڑھکتا ہوا بھی جا رہا ہے۔
بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عوام کو لاک ڈاؤن کی درگت بنانے پر سب سے زیادہ کپتان اور انکی حکومت نے خود مائل کیا۔ پہلے دن سے یہ پیغام عام کیا گیا کہ حکومت اس وبا کے بارے میں کچھ خاص موثر کردار ادا نہیں کر پائی کیوں کہ ہم سے کہیں باوسائل اقوام کی بھی سٹی گم ہو چکی ہے۔ یقیناً پھر عوام میں یہ احساس پیدا ہونا ہی تھا کہ انہوں نے جیسے تیسے اپنا بندوبست خود ہی کرنا ہے اور اب وہ یہ بندوبست خود کر رہے ہیں، اگرچہ اس کا نتیجہ بدترین بداحتیاطی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ مشکل اور غیریقینی حالات میں قیادت عوام کو نفسیاتی سہارا دیتی ہے مگر جب میرِ کاررواں کاسا گداگراں اٹھا لیں تو پھر خلقت کیا خاک امید باندھے گی۔
اس طرح شروع سے نیم سرکاری طور پر خواہ مخواہ کی افواہیں بھی پھیلائی گئیں۔ مثلاً پہلے عوامی معلومات والے پیغامات میں کرونا کو جان لیوا بیماری قرار نہیں دیا گیا، وجہ؟ کہیں افراتفری نہ پھیل جائے۔ پھر یہ بھی کہا گیا کہ گرم موسم میں یہ وائرس فنا ہو جائے گا، باوجود اس کے کہ اس کی کوئی ثابت شدہ سائنسی بنیاد نہیں تھی اور اب اس وبا کو بےحیائی اور خواتین کے مختصر لباس کے ساتھ جوڑ کر عقل اور منطق کو آخری رسومات ادا کیے بغیر دفن کر دیا گیا ہے۔ جس نظام میں اس قسم کی دو نمبری کی ترویج اور فروغ کی اتنی وافر گنجائش موجود ہو وہاں سے عوام کو ایک سیدھا اور مستقل پیغام کیسے مل سکتا ہے؟ ایسے نظام میں رہنے والا پھر لاک ڈاؤن کو مذاق اور وبا کو سازش کیوں نہ سمجھے اور اس کی دھجیاں اڑانے پر مصر کیوں نہ ہو۔ ان حالات میں حکومت اگر بے بس و مجبور نظر آتی ہے تو عوام کے معاشی مسائل کے علاوہ اس کی اپنی حماقتیں قصوروار ہیں۔ ان حالات میں آج پاکستان ایک کاغذی لاک ڈاؤن کی حالت میں ہے اور کرونا اپنی پوری قوت سے آفت مچا رہا ہے۔ اگر اب بھی کپتان حکومت نے اپنی دوغلی پالیسی کے تضادات کو ختم نہیں کیا تو آنے والے دن قیامت سے کم نہ ہوں گے۔
