5 جی سپیکٹرم کی نیلامی، سب سے تیز انٹرنیٹ کس کمپنی کا ہو گا؟

5 جی سپیکٹرم کی کامیاب نیلامی کے بعد پاکستان میں تیز ترین انٹرنیٹ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق فائیو جی ٹیکنالوجی نہ صرف صارفین کو انتہائی تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرے گی بلکہ آن لائن کاروبار، فری لانسنگ، ای کامرس اور دیگر ڈیجیٹل سروسز کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی، جس سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مزید تقویت ملنے کی امید ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ پاکستان میں کون سی کمپنی کتنا سپیکٹرم حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے اور کس کمپنی کا انٹرنیٹ سب سے زیادہ تیز رفتار ہو گا؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نیلامی کے نتائج کو دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی تین بڑی ٹیلی کام کمپنیوں نے مجموعی طور پر 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم خریدا ہے۔ اس میں جاز نے 190 میگا ہرٹز، یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز سپیکٹرم حاصل کیا۔ ان اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ سپیکٹرم جاز کے پاس ہے تو لامحالہ اس کے انٹرنیٹ کی سپیڈ باقی دونوں کمپنیوں سے زیادہ ہو گی۔ تاہم حکام کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں اس نوعیت کی یہ ایک بڑی سپیکٹرم نیلامی ہے جس سے موبائل نیٹ ورک کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو گا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں جدید موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب یہ ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب طویل عرصے کی تیاری اور تاخیر کے بعد حکومت نے فائیو جی سپیکٹرم کی بڑی نیلامی کامیابی سے مکمل کی۔ اس نیلامی میں ملک کی تین بڑی ٹیلی کام کمپنیوں جاز، یوفون اور زونگ نے حصہ لیا اور مجموعی طور پر 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔ ماہرین کے مطابق اس نیلامی کے ذریعے جہاں حکومت کو تقریباً 510 ملین ڈالر کا ریونیو حاصل ہوا ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیجیٹل معیشت، فری لانسنگ اور ای کامرس کے شعبوں میں بھی نئے مواقع پیدا ہونے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔ نئے سپیکٹرم کے اضافے سے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں واضح بہتری آئے گی، جبکہ آئندہ چند ماہ کے دوران کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت بڑے شہروں میں مرحلہ وار بنیادوں پر فائیو جی سروسز کے آغاز کا امکان ہے۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سپیکٹرم کیا ہوتا ہے اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجی میں سپیکٹرم اتنا اہم کیوں تصور کیا جاتاہے؟ ماہرین کے مطابق سادہ الفاظ میں سپیکٹرم وہ ریڈیو فریکوئنسی رینج ہوتی ہے جس کے ذریعے موبائل نیٹ ورک ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ اسے ایک سڑک سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جس پر مختلف لائنز ہوتی ہیں۔ جس کمپنی کے پاس جتنا زیادہ سپیکٹرم ہوتا ہے، وہ بیک وقت اتنا ہی زیادہ ڈیٹا منتقل کر سکتی ہے اور صارفین کو بہتر رفتار فراہم کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کم فریکوئنسی بینڈ جیسے 700 میگا ہرٹز دور تک کوریج فراہم کرتے ہیں اور دیہی علاقوں کے لیے مفید ہوتے ہیں، جبکہ زیادہ فریکوئنسی جیسے 3500 میگا ہرٹز انتہائی تیز رفتار فراہم کرتی ہے مگر اس کی کوریج نسبتاً محدود ہوتی ہے۔ اسی لیے ٹیلی کام کمپنیاں مختلف فریکوئنسی بینڈز کا امتزاج استعمال کرتی ہیں تاکہ رفتار اور کوریج کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔
فائیو جی سے صارفین کو کیا فائدہ ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں ماہرین کا کہنا تھا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کی سب سے نمایاں خصوصیات میں انتہائی تیز رفتار انٹرنیٹ، کم تاخیر اور ایک ہی وقت میں زیادہ صارفین کو مستحکم کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے صارفین نہ صرف تیز رفتار ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ کی سہولت حاصل کر سکیں گے بلکہ ان کیلئے آن لائن گیمز، ویڈیو کالز اور ہائی ریزولوشن ویڈیو سٹریمنگ کا تجربہ بھی پہلے سے کہیں بہتر ہو جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر اور تیز رفتار انٹرنیٹ پاکستان میں فری لانسنگ، ای کامرس اور دیگر آن لائن کاروباروں میں بھی انقلاب برپا کرے گی کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں فری لانسنگ کے شعبے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بہتر انٹرنیٹ کی دستیابی اس شعبے کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔ تیز رفتار انٹرنیٹ کے ذریعے آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ، آن لائن کاروباروں کی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں فائیو جی متعارف کرانے کا منصوبہ کئی برسوں سے زیر غور تھا۔ ابتدائی طور پر 2022 میں اس کی نیلامی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم قانونی تنازعات، پالیسی منظوری میں تاخیر اور ٹیلی کام سیکٹر کے مالی مسائل کے باعث یہ منصوبہ کئی بار مؤخر ہوتا رہا۔ حکومتی حکام کے مطابق بالآخر اسپیکٹرم سے متعلق قانونی معاملات حل ہونے کے بعد نیلامی کا عمل مکمل کیا گیا جس کے بعد اب ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ماہرین کے بقول اگر پاکستان اس ٹیکنالوجی سے مؤثر فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ پیشرفت نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے بلکہ مجموعی معیشت کے لیے بھی ایک گیم چینجز ثابت ہو سکتی ہے۔
