6 میجرز نے اپنی برطرفی کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

افواج پاکستان کے چھ میجرز نے اپنی برطرفی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا جس پر عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل کو نوٹسز جاری کردیے۔

سپریم کورٹ میں پاک فوج کے 6 میجرز کی جانب سے اپنی برطرفی کے خلاف اپیل دائر کی گئی، جسٹس سردار طارق کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔

پاک فوج کے برطرف افسران میں میجر زر بخت، میجرعلی حیدر، میجر عاصم بیگ، میجر مرزا عدنان افضل، میجر بلال جدون اور میجر فضل منان شامل ہیں۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی شق سولہ کے تحت افسران کو برطرف کیا گیا، شق سولہ کی تحت کسی بھی فوجی افسر کو بغیر وجہ بتائے برطرف کیا جاسکتا ہے لیکن آرمی ایکٹ کی شق 16 آئین کے آرٹیکل 10 اے سے متصادم ہے۔

وکیل نے کہا کہ شفاف ٹرائل کے بغیر کسی کو برطرف نہیں کیا جاسکتا، برطرف اہل کاروں پر کوئی الزام لگا نہ انکوائری ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایپل دائر کی گئی لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار نہ ہونے پر اپیلیں خارج کر دیں۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ جی ایچ کیو کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ پنڈی بنچ میں چیلنج کیوں نہیں کیا؟ جس پر سابق افسران کے وکیل نے کہا کہ برطرفی کی منظوری وفاقی حکومت نے دی تھی جو اسلام آباد میں ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ درست نہیں، کالعدم قرار دیا جائے۔

جس کے بعد میجرز کی برطرفی پر سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیے۔

Back to top button