روس کے کرِل جزائر میں 7.0 شدت کا زلزلہ، کمچاتکا میں 600 سال بعد آتش فشاں پھٹ پڑا

روس کے مشرقی علاقے کمچاتکا کے قریب واقع کرِل جزائر میں اتوار کی شب 7.0 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا، جس کے بعد تین ساحلی علاقوں میں سونامی کی ممکنہ لہروں سے متعلق خبردار کیا گیا ہے۔

روسی وزارت برائے ہنگامی خدمات نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ اگرچہ متوقع سونامی لہروں کی اونچائی کم ہے، لیکن شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ساحلی علاقوں سے دور رہیں۔

ادھر بحرالکاہل سونامی وارننگ سسٹم اور امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے بھی زلزلے کی شدت 7.0 ریکارڈ کی ہے، تاہم فی الحال سونامی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔

مزید تشویش اس وقت پیدا ہوئی جب اسی رات کمچاتکا کے کرشینینیکوف آتش فشاں میں دھماکہ ہوا، جو ماہرین کے مطابق 600 سال بعد پہلی بار پھٹا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آر آئی اے‘ کے مطابق یہ دھماکہ تاریخی طور پر تصدیق شدہ پہلی مثال ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف وولکینالوجی اینڈ سیسمولوجی سے وابستہ اولگا گیرینا کے مطابق آخری بار یہ آتش فشاں 1463 کے آس پاس پھٹا تھا، اور اس کے بعد سے اس میں کوئی سرگرمی ریکارڈ نہیں ہوئی تھی۔

روسی وزارت نے بتایا کہ دھماکے کے بعد آتش فشاں سے 6,000 میٹر بلند راکھ کا بادل اٹھا، جو مشرق کی جانب بحرالکاہل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ خوش قسمتی سے راکھ کے بادل کے راستے میں کوئی انسانی آبادی نہیں ہے۔

آتش فشاں کو "نارنجی ایوی ایشن کوڈ” دیا گیا ہے، جو ہوا بازی کے لیے خطرے کی بلند سطح ظاہر کرتا ہے۔

یہ تمام واقعات گزشتہ ہفتے مشرقی روس میں آنے والے 8.8 شدت کے زلزلے سے جُڑے ہو سکتے ہیں، جس کے بعد فرانس پولینیشیا اور چلی تک سونامی وارننگز جاری کی گئی تھیں، اور کلیوچیفسکایا آتش فشاں کی سرگرمی بھی نوٹ کی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں آئندہ ہفتوں تک طاقتور آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

Back to top button