8 رکنی عمراندار ججز کی وضاحت، حکومت آئینی ترمیم کیسے منظور کروائے گی؟

مخصوص سیٹوں بارے سپریم کورٹ کے 8 رکنی عمراندار ججز کی جانب سے اچانک سامنے آنے والی وضاحت نما دھمکی آمیز حکمنامے سے کچھ حلقے حیران ہیں جبکہ کچھ پریشان ہیں، تاہم عدالتی حکم نامے کے بعد آئینی ترمیم کے حوالے سے سیاسی جوڑ توڑ میں تیزی آگئی ہے، حکومت نے عدالتی اصلاحات کیلئے آئینی ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کیلئے اپنی حکمت عملی کو آخری شکل دیتے ہوئے بل کی  منظوری کیلئے صف بندی کرلی ہے۔

حکومتی اتحاد نے عدالتی وضاحت کو نظرانداز کر دیا، آئینی ترمیمی بل آج پیش کیے جانے کا امکان ہے ۔قومی اسمبلی کا اجلاس آج بروز اتوار شام 4بجے منعقد ہوگا، اجلاس کا چھ نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کے ارکان کے اعزاز میں ہفتے کی شب عشائیہ دیا، وزیراعظم نے ارکان کو پارلیمنٹ میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے حکم نامہ کے حوالے سے آئینی ماہرین کا کہنا کہ جب تک الیکشن کمیشن کی ریویو پٹیشن پر فیصلہ نہیں ہوتا وضاحت کے باوجود فیصلے پر عمل درآمد کا امکان نہیں۔حکومتی ماہرین کی رائے ہے کہ بارہ جولائی کا فیصلہ الیکشن ایکٹ کی ترمیم سے غیر موثر ہو چکاہے۔ وزیر قانون نے موقف اختیار کیا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار جسے کوئی سلب نہیں کرسکتا۔ دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پارلیمان ملک کا سپریم ادارہ ہے۔پارلیمان کے تقدس کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے ملکی و عوامی مفاد میں قانون سازی ہو۔ قومی نوعیت کے معاملات کو صرف پارلیمان کے ذریعے ہی حل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اداروں اور غیر سیاسی شخصیات کو سیاست میں گھسیٹ کر فریق بنانے کی کوشش ہوتی رہی۔

دریں اثناء بظاہر الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کی وضاحت کے بعد 12 جولائی 2024 کے اعلیٰ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا پابند ہے۔ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے الیکشن کمیشن پر واضح کر دیا کہ جب الیکشن کمیشن نے خود بیرسٹر گوہر خان کو چیئرمین اور عمر ایوب کو سیکرٹری جنرل تسلیم کیا پھر اسکے بعد پارٹی سرٹیفکیٹ پر دستخط کے معاملے کو سوالیہ بنانا درست نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے 18جولائی کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک الیکشن کمیشن کی ریویو پٹیشن پر فیصلہ نہیں ہوتا وضاحت کے باوجود فیصلے پر عمل درآمد کا امکان نہیں۔ اس ضمن میں پارلیمنٹ کے نئے قانون کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا جس میں الیکشن ایکٹ 2017میں ترمیم کی گئی تھی کہ آزاد امیدوار ایک مرتبہ ہی کسی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں ۔اس قانون کے ذریعے سنی اتحاد کونسل کے 41 ارکان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کو روکا گیا۔ تاہم سپریم کورٹ کی وضاحت کے بعد 41 میں سے وہ ارکان جنہوں نے تحریک انصاف کا سرٹیفکیٹ جمع کرایا وہ پی ٹی آئی کے تصور ہونگے ۔ ماہرین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی نظر ثانی پٹیشن پر حتمی فیصلے کے بعد ہی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ممکن ہوگا۔

واضح رہے کہ آئینی ترامیم کیلئے حکومت کے پاس عددی اکثریت میں 8 اراکین کی کمی ہے اور ایسے میں اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی مولانا فضل الرحمان کی حمایت کیلئے کوشاں ہیں۔ دوسری جانب ماہرین کا مرتب کردہ آئینی ترامیم کا مسودہ ہفتے کی شام حکمران اتحاد کی قیادت کے حوالے کیا گیا، چار گھنٹے بند کمرے کے اجلاس میں مسودے کی نوک پلک درست کی گئی، آج آئینی ترمیم "ٹیبل بل” کے طور پر لایا جائیگا یہ آئین کی چھبیسویں ترمیم ہوگا، حکومتی اتحاد نے عدالتی وضاحت کو نظر انداز کر دیا۔

Back to top button