کراچی اسٹاک ایکسچینج حملے میں بھارتی ایجنسی ’را‘ ملوث ہے

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کی پشت پناہی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ ملوث ہے۔ 8 منٹ میں چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کرکے انہیں ان کے اہداف میں ناکام بنایا۔
ڈی جی سندھ رینجرز میجر جنرل عمر بخاری نے سندھ رینجرز ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج بلڈنگ پر صبح 10 بجکر 2 منٹ پر 4 دہشتگرد گاڑی میں سوار ہو کر آئے اور حملہ کیا، فورسز نے 10 بجکر 10 منٹ پر اس کارروائی کا اختتام کردیا، یعنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے صرف 8 منٹ میں دہشتگردوں کو انجام تک پہنچایا۔ ڈی جی رینجرز نے کہا کہ دہشتگرد پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں داخل نہیں ہوسکے، 2 دہشتگردوں کو پہلے پک اٹ پر مار گرایا اور مزید آگے پہنچنے والے 2 دہشتگردوں کو اگلے مرحلے مار دیا گیا، رینجرز، پولیس اور پرائیوٹ سیکیورٹی گارڈ پر مشتمل سیکیورٹی ونگ نے یہ کارنامہ سرانجام دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اگلے 20 منٹ میں تمام کارروائی مکمل کر لی گئی تھی، دہشت گردوں نے لوگوں کو یرغمال بنانا تھا وہ جدید اسلحہ، لانچر گرینیڈ اور دیگر سامان لائے تھے، دہشتگردوں کوپاکستان اسٹاک ایکسچینج کے داخلی راستے پر ہی روک لیا گیا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ دہشتگردوں کی پشت پناہی میں پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی ’را‘ ملوث ہے، ہمیں ادراک ہے کہ ملک دشمن ایجنسیاں کوششیں کر رہی ہیں کہ بچے کچے دہشتگردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کریں مگر ہم واقف ہیں کہ کون کیا کررہا ہے، ان کے خلاف کام شروع کرچکے ہیں اور انہیں نیست و نابود کریں گے۔
ڈی جی رینجرز کا کہنا تھا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں، دہشتگرد 8 منٹ میں فارغ ہوگئے یہ تمام ایجنسیوں کی مشترکہ کامیابی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد جب حملہ کرنے آئے تو انہوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کچھ راہگیر زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی گارڈز نے دو دہشت گردوں کو پہلے ہی مار گرایا تھا جبکہ دو آگے آگئے تھے اور اس دوران ایک پولیس اہلکار بھی شہید ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگلے کچھ دیر میں ہی رینجرز اور پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی اور انہوں نے تمام دہشت گردوں کو مار گرایا‘۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں جس کی وجہ سے اس حملے کو ناکام بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر بلوچستان لبریشن آرمی کے مجید گروپ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے کے بارے میں انہوں نے کہا کہہ ہم اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں داخل ہوکر لوگوں کو یرغمال بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اور انٹیلی جنس کی وجہ سے ہی ہم تیار تھے جس کی وجہ سے ہم کامیاب ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ یہ کراس اسپانسرڈ حملہ ہوسکتا ہے اور ہم خطروں کے حساب سے اپنے رد عمل کو اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں‘۔ میجر جنرل عمر بخاری کا کہنا تھا کہ 8 منٹ میں حملے کو روکا اور 25 منٹ میں ہم نے عمارت کلیئر کردی تھی، عوام کو پیغام ہے کہ سکیورٹی اداروں پر اعتماد رکھیں اور ہم اپنی خدمت جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد دنیا کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ پاکستان غیر محفوظ شہر ہے جب کہ انہوں نے یہ کام کرکے اپنا ہی منہ کالا کیا ہے اور سب کو پتہ لگا ہے کہ جو یہ کام کرتا ہے اس کا کیا حال ہوتا ہے۔
