تحریک انصاف کے 8 ایم این اے پارٹی چھوڑنے کو تیار

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد اب پہلی بڑی سیاسی ڈویلپمنٹ ہونے جا رہی ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے 8 ممبران قومی اسمبلی میں اپنی پارٹی سے علیحدہ ہو کر ایک فارورڈ بلاک بنانے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ فیصل آباد ڈویژن اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے آٹھ پی ٹی آئی اراکین کو مسلم لیگ ن کی جانب سے اگلے الیکشن میں پارٹی ٹکٹس دینے کی یقین دہانی کروا دی گئی ہے۔
اس گروپ کی قیادت راجہ ریاض کر رہے ہیں جنہیں جہانگیر ترین کا قریب ترین ساتھی خیال کیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ جب پچھلے برس شوگر سکینڈل میں جہانگیر ترین کو گرفتار کرنے کی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا انہوں نے اپنا علیحدہ تشکیل دے دیا تھا جس میں نمایاں ترین شخص راجہ ریاض ہی تھے۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی چھوڑنے کو تیار تحریک انصاف کے یہ 8 اراکین اسمبلی پہلے بھی اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کر چکے ہیں۔ ان میں سرفہرست راجہ ریاض ہیں جن کا فیصل آباد ڈویژن میں کافی سیاسی اثرورسوخ ہے اور وہ پچھلے کافی عرصے سے حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔
ماضی میں ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے رہا ہے۔ ان کے ساتھ عمران خان سے ممکنہ طور پر بغاوت کرنے والے دیگر اراکین قومی اسمبلی میں نصر اللہ گھمن، عاصم نذیر، نواب شیر وسان، ریاض فتیانہ، خرم شہزاد، غلام بی بی بھروانہ اور غلام محمد لالہ شامل ہیں جنھیں تحریک انصاف سے چھوڑنے کے عوض اگلے الیکشن میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کروا دی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان آٹھوں اراکین قومی اسمبلی نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ جہانگیرترین کے ایما پر کیا ہے جو چند روز پہلے علاج کی خاطر لندن روانہ ہوگئے تھے۔
سیاسی حلقوں میں افواہیں زیر گردش ہیں کہ شاید ترین کے لندن جانے کا مقصد پارٹی میں باغی دھڑا سامنے آنے کے بعد حکومت کی جانب سے شوگر سکینڈل میں انتقامی کاروائی سے بچنا ہو۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کی غرض سے جہانگیر خان ترین سے رابطہ بھی کیا تھا اور ان کی صحت بھی دریافت کی تھی۔
دہشتگردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینا غلط تھا
ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ ریاض اور ریاض فتیانہ کی جانب سے ممکنہ طور پر اپنے 6 ساتھیوں کے ساتھ پارٹی چھوڑنے کے اعلان کے فوری بعد پی ٹی آئی کے مزید اراکین اسمبلی بھی ان کا ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ ریاض فتیانہ کا شمار تحریک انصاف کے اہم ترین اراکین اسمبلی میں ہوتا ہے جو ان دنوں سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ انکے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض فتیانہ بھی راجہ ریاض کے ہمراہ جلد ہی پی ٹی آئی کو خیر باد کہہ دیں گے جس کے بعد انھیں ن لیگ کی جانب سے الیکشن 2023 کے لیے پارٹی ٹکٹ جاری کیا جائے گا۔
دوسری جانب عمران خان نے بھی اپنی حکومت بچانے کے لیے سرگرم ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور اتحادی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتوں کا پروگرام بنا لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم یکم مارچ کو لاہور کا ایک روزہ دورہ کریں گے جس کے دوران انکی چوہدری برادران کے ساتھ ملاقات متوقع ہے۔ وزیراعظم ق لیگ کے تحفظات سنیں گے، اور چوہدریوں سے حکومتی اتحاد سے باہر نہ نکلنے کی بھی درخواست کریں گے۔
اسکے علاوہ وزیراعظم کچھ باراض ارکان اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان لاہور کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔لاہور کے دورے کے باعث عمران خان نے یکم مارچ کو ہونے والا وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی ملتوی کردیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دورہ لاہور کے بعد عمران خان کراچی کا دورہ کریں گے اور ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر بہادرآباد جائیں گے تاکہ متحدہ قومی موومنٹ کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ اپوزیشن کی تینوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور جمعیت علماء اسلام کی قیادت گجرات کے چوہدریوں سے ملاقاتیں کر چکی ہے جس کے بعد آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن پرویز الہی کو عثمان بزدار کی جگہ وزیراعلی پنجاب بنانے کی تجویز دے چکے ہیں بشرطیکہ وہ مرکز میں عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے ان کا ساتھ دیں۔
اس تجویز پر ابھی مسلم لیگ نون کی قیادت نے حتمی جواب نہیں دیا کیونکہ چوہدری برادران مسلسل حکومتی نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقاتوں میں مصروف ہیں اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں وزارت اعلی پنجاب عمران خان کی جانب سے بھی آفر ہو سکتی ہے۔’
