9 مئی سے لاک ڈاؤن ختم، تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند

وزیراعظم عمران خان نے ہفتہ(9 مئی) سے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات بھی منسوخ کر دئیے گئے ہیں.
قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے 13 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کیا اور عوامی مقامات کو بند کیا لیکن مجھے پہلے دن سے یہی خوف تھا کہ ہمارے حالات یورپ، چین سے مختلف ہیں اور ہم نے جو لاک ڈاؤن کرنا ہے وہ مختلف ہوگا کیونکہ یہاں یومیہ اجرت پر کام کرنے والا دار طبقہ ہے اور ہمیں خدشہ تھا کہ اگر سب بند کردیا تو ان لوگوں کا کیا بنے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا میں حالات کو دیکھ رہے تھے کہ یہ وائرس کیسے پھیل رہا ہے، دنیا کے ممالک میں روزانہ ہزار لوگ مر رہے تھے اوراس سب کو دیکھتے ہوئے ہم نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) بنایا۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کو این سی او سی کا سربراہ بنایا اور اس کے تحت روزانہ تمام صوبوں سے رابطہ کیا جاتا ہے اور ڈاکٹرز سے تجاویز لے کر صورتحال کا جائزہ اور فیصلہ کیے جاتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے اگلے مرحلے میں ہماری کامیابی میں پاکستانیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا، اگر اس وقت ہم ایک قوم بن کر خود احتیاط کریں اور منظم طریقے سے ایس او پیز پر عمل کریں۔عمران خان نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ذمہ دار شہری بن کر تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارا پبلک ٹرانسپورٹ کے معاملے پر مکمل طور پر اتفاق نہیں ہے، میرے خیال سے اسے کھلنا چاہیے کیونکہ یہ ایک عام آدمی استعمال کرتا ہے اور اس سے غریب کو فائدہ ہوتا ہے۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چونکہ ابھی صوبوں کو خدشات ہیں اور ابھی کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جس سے صوبوں کو مسئلہ ہو لہٰذا وہ خود اس حوالے سے ایس او پیز تیار کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت یہ پوری دنیا کے لیے مشکل وقت ہے، پوری قوم دو نفل ادا کرے کہ ملک کی صورتحال اتنی خراب نہیں ہے۔عمران خان نےکہا کہ ہمیں لوگوں کو کورونا سے بھی بچانا ہے اور لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے افراد کا بھی خیال رکھنا ہے، ساری توجہ کورونا کی جانب مرکوز ہونے سے تپ دق( ٹی بی) اور کینسر پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے پوری کوشش کی ہے کہ لاک ڈاؤن سے غریب کم سے کم متاثر ہو لیکن ہمیں مزید اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ اس سے اور بھی لوگ متاثر ہورہے ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم کے بعد فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ اس وقت وبا تقریباً ہر ملک میں پھیلی ہوئی ہے لیکن اس کا انداز ہر جگہ الگ رہا ہے اور کچھ ممالک میں یہ آگ کی طرح پھیلی ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں اس طرح کی تیزی نہیں دیکھی گئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 روز میں اموات کی تعداد 38 اور 40 رہی ہے لیکن اس کا موازنہ دیگر ممالک سے کریں جہاں وبا میں تیزی آئی تو یہ تسلی آمیز ہے کہ ہماری صورتحال بہتر ہے۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہ ہمیں اپنے نظام صحت کو تیار کرنے کا وقت ملا ہے، نظام صحت پر دباؤ آیا ہے اور مزید آسکتا ہے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ ختم ہوگئی ہے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس وینٹی لیٹرز اور دیگر سہولیات موجود ہیں لیکن یہ نہ ہو کہ اس بیماری کا پھیلاؤ ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے اس لیے ہر شہری پر احتیاطی تدابیر اپنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک میں دیکھا گیا کہ کورونا وائرس کے باعث دیگر بیماریوں کے مریض نظرانداز ہورہے ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ کورونا وائرس کو روکنے کی کڑی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم احتیاطی تدابیر اپنائیں۔
ان کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا کہ بار بار کہا جاتا ہے کہ معیشت زیادہ ضروری ہے یا انسانی زندگی زیادہ اہم ہے۔اسد عمر نے کہا کہ آج این سی سی اجلاس میں مختلف تجاویز دی گئیں اور 6 فیصلے کیے گئے، کچھ معاملات پر صوبوں سے اتفاق نہیں ہوا وزیراعظم چاہتے تو آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے فیصلے مسلط کرسکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا۔
این سی سی اجلاس میں مندرجہ ذیل 6 فیصلے کیے گئے. جن میں تعمیراتی شعبے کے دوسرے فیز کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔چھوٹی مارکیٹوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی، محلے اور دیہی علاقوں میں دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی۔فجر یعنی سحری کے بعد شام 5 بجیں تک دکانیں کھلی رہیں گی لیکن رات میں بند رکھی جائیں گی۔ہفتے میں 2 روز اشیائے ضروری کے سوا تمام کاروبار اور مارکیٹیں بند رہیں گیں۔ہسپتالوں کی مخصوص اور نشاندہی شدہ آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔تعلیمی اداروں کی تعطیلات 31 مئی سے آگے بڑھانے اور بورڈ امتحانات سے متعلق بھی اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا۔
اسد عمر کے بعد وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے کہا کہ الیکٹرک اور اسٹیل سے منسلک کاروباروں کو کھولا جائے گا۔حماد اظہر نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کے دوران پینٹ اور پائپ سے منسلک کاروباروں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ اسکول اور تمام تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے بورڈ کے امتحانات منسوخ کردئیے گئے ہیں اور طلبا کو گزشتہ برس کے نتائج کی بنیاد پر اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے گا۔
ان کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف نے کہا کہ ہم ہر ہفتے ساڑھے 7 پاکستانیوں کو واپس لارہے ہیں جبکہ ایک لاکھ پاکستانی وطن واپسی کے منتظر ہیں۔معید یوسف نے کہا کہ بیرون ملک سے واپس آنے والی بیشتر پروازوں میں کورونا کے کیسز سامنے آئے صرف خلیجی ممالک سے آنے والے کچھ مسافروں میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
قبل ازیں ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی ) کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن سے ہونے والے مشکلات میں کمی کے لیے چھوٹے کاروبار اور تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی سفارشات پر غور کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزرا، پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور اعلیٰ حکام اجلاس نے شرکت کی۔
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا اور 25 مارچ تک کیسز کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی تھی۔اب تک ملک میں مجموعی طور پر 24 ہزار 146 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 559 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button