9 مئی کی سازش کے اعتراف کے بعد عمران کا مستقبل اور بھی تاریک

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے عمران خان اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کیخلاف 9 مئی کی سازش رچانے اور ریاست کیخلاف بغاوت کے الزامات کی تائید کے بعد اب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے خود جی ایچ کیو سمیت اہم فوجی تنصیبات کے سامنے احتجاج کی کال دینے کا اعتراف کر لیا ہے جس کے بعد قیدی نمبر 804 کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
فوج اب کبھی عمران خان کو اقتدار میں کیوں نہیں آنے دے گی؟
خیال رہے کہ 22 جولائی کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج کی کال دینے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتاری سے قبل کارکنان کو جی ایچ کیو کے سامنے پرامن احتجاج کی کال دی تھی، لیکن پرامن مظاہرے کو بغاوت بنا دیاگیا۔ اپنی گفتگو کے دوران بانی پی ٹی نے ایک نہیں دو مرتبہ اپنی گفتگو میں جی ایچ کیو کے سامنے کال دینے کا ذکر کیا، انکا کہنا تھا 14 مارچ 2023 کو انکے گھر زمان پارک لاہور میں پولیس اور رینجرز نے حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی، میرے وکلاء اور میں نے خود پولیس کو یقین دہانی کرائی کہ ہمارے خلاف جتنے بھی مقدمات ہیں ہم نہ صرف شامل تفتیش ہونے کیلئے تیار ہیں بلکہ اگر گرفتاری کی ضرورت ہے تو ہم گرفتاری بھی دینگے، بانی پی ٹی آئی نے کہا 18 مارچ کو اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر پولیس نے مجھ پر پھر دھاوا بولا اور شیلنگ کی مجھے اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا یہ مجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں، اپنی گرفتاری سے قبل پارٹی کو کال دی تھی اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو آپ نے جی ایچ کیو کے سامنے جاکر پر امن احتجاج کرنا ہے، بانی پی ٹی آئی نے اپنی گفتگو میں کہا جی ایچ کیو کے سامنے پر امن احتجاج کیوں نہیں ہوسکتا۔
اس دوران ایک صحافی نے بانی پی ٹی آئی سے پوچھا جو آپ نے جی ایچ کیو کے سامنے احتجاجی کال دینے کا ذکر کیا ہے کیا اسکا مطلب ہے کہ آپ تسلیم کررہے ہیں کہ نو مئی کے واقعات آپکی دی ہوئی کال کے نتیجے میں ہوئے، بانی پی ٹی آئی نے کہا ہمارا پرامن احتجاج تھا لیکن جب ایک پارٹی کے چیئرمین کو گھسیٹ کر گرفتار اور اغواء کیا جائیگا تو اسکا ردعمل آنا تھا وہی ہوا، بانی پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ پورے ملک میں اگر احتجاجی مظاہرے اور دھرنے ہوسکتے ہیں تو جی ایچ کیو کے سامنے پرامن احتجاج کیوں نہیں ہوسکتا ہے، ہمارا احتجاج پرامن تھا ہمارے کارکن پرامن تھے لیکن ہمارے احتجاج کو بغاوت کہا گیا اور حالات پھر کشیدہ ہوگئے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھ پر مقدمات ختم ہونا شروع ہوئے تو ان کا پلان ہے کہ مجھے ملٹری جیل بھیجا جائے۔ مجھے لگتا ہے 9 مئی مقدمات میں مجھے ملٹری جیل بھیجا جائیگا۔ 9 مئی کے مقدمات میں بھی میرے خلاف وعدہ معاف گواہ تیار کئے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران نیازی نے پیر کو اپنے کارکنوں کو جی ایچ کیو جاکراحتجاج کرنے کی ہدایات دینے کا اعتراف کر کے اپنے خلاف درج 9 مئی کے مقدمے کو سیدھا فوجی عدالت میں لے جانے کی راہ پورے طور پر ہموار کردی ہے۔ اس اعتراف کے بعد لگ رہا ہے کہ جلد انہیں نو مئی کے مقدمات میں ملوث ہونے کے باعث فوجی حکام کے حوالے کردیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق نو مئی کے مرکزی مقدمے کی سماعت آئندہ ماہ شروع ہوجائے گی جس کے لئے ملزموں کو لاہور یا اس کے نواح کی کسی جیل میں لےجانا ضروری ہوگا اس مقدمے کو لاہور میں قائم عدالت سن رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیت کے علاوہ ساہیوال کی ڈسٹرکٹ جیل میں دہشت گردی اور خطرناک جرائم میں ملوث ملزموں کے لئے الگ سے بیرک موجودہیں اور دہشت گردی کی خصوصی عدالت ان جیلوں میں جاکر مقدمے کی سماعت اس صورت میں کرسکتی ہے اگر عمران نیازی کے مرکزی مقدمے کو فوجی عدالت میں سماعت کے لئے مقرر ہونے کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ اگر مقدمہ جس میں عمران پر ایک درجن سے زیادہ سنگین دفعات کا حوالہ موجود ہے اور جن میں سزائے موت اور عمر قید جیسی سزائوں کی گنجائش شامل ہے تاہم عمران خان کے اعترافی بیان کے بعد فوجی عدالت عمران سمیت تمام ملزمان کواپنے کسی حراستی مرکز میں رکھنے کا حکم دے سکتی ہے۔ ایسے مرکز کی نشاندہی اور مقام سے آگاہ کرنا متعلقہ حکام پر لازم نہیں ہوگا۔
ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کا 9 مئی میں ملوث شرپسندوں کی سی سی ٹی وی کیمروں سے نشاندہی بارے اصرار دراصل اپنے کارکنوں کو ملوث کرکے خود بچ رہنے کی کوشش ہے حالانکہ تفتیش کاروں نے نو مئی کے لئے مرتب کی گئی منصوبہ بندی اور اس کے مقاصد کے حوالے سے شہادتوں کے پورے تانے بانے تک رسائی حاصل کرلی ہے۔ جس پر عمران خان کے اعترافی بیان نے مہر تصدیق ثبت کر دی ہے اب عمران خان کا سانحہ 9 مئی کے مقدمات میں انجام سے بچناناممکن دکھائی دیتا ہے۔
