سینیٹ
’طیارہ حادثہ کیس میں صرف قومی ایئر لائن کے سی ای او کی بریفنگ قبول کریں گے‘
نادر گُرامانی | ویب ڈیسک 16 جولائ, 2020Facebook Count
Twitter Share
0
Translate
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی نے کراچی میں طیارہ حادثے کی بریفنگ کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایئر مارشل ارشد ملک کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثہ کیس میں صرف سی ای او کی بریفنگ قبول کریں گے۔
سینٹ قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر مشاہد اللہ کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرور اور وفاقی سیکریٹری ناصر حسین جامی سمیت پی آئی اے دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔
مزیدپڑھیں: کراچی طیارہ حادثہ: پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، وزیر ہوا بازی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سی ای او پی آئی اے کی عدم حاضری پر فیصلہ کیا کہ جب تک وہ خود آکر کراچی طیارے حادثے کی بریفنگ نہیں دیں گے تب تک حادثے پر کسی اور کی بریفنگ قبول نہیں کریں گے۔
تحریر جاری ہے
اس موقع پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ کراچی پی آئی اے طیارہ حادثہ رپورٹ ایک اہم معاملہ ہے، سی ای او پی آئی اے کمیٹی میں کیوں نہیں آئے؟
انہوں نے کہا کہ وزیر ہوابازی آ سکتے ہیں تو سی ای او پی آئی اے بھی آ سکتے ہیں۔
شیریں رحمٰن نے کہا کہ سی ای او پی آئی اے نے کمیٹی میں نہ آکر پارلیمنٹ کی توہین کی، جب تک وہ نہیں آئیں گے پی آئی اے طیارہ حادثہ پر کوئی بات نہیں ہو گی۔
کمیٹی میں شامل مصطفیٰ کھوکھر نے کہا کہ سی ای او کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ آکر طیارہ حادثے پر بریف کرتے اور بتایا جائے پائلٹس کیا لائسنسنگ اتھارٹی کون ہے؟
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن سے سول ایوی ایشن کی پوزیشن تبدیل ہو رہی ہے، پہلے کہا گیا کہ لائسنسز جعلی تھے اب کہتے ہیں کہ لائسنسز اصلی ہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ،97 افراد جاں بحق
اس ضمن میں سیکریٹری ہوا بازی ناصر حسین جامی نے بتایا کہ 2010 سے ہوا بازوں کے لائسنس کمپیٹوٹرائزڈ ٹیسٹ پر منتقل کرگیے گئے اور 18-2017 میں 54 پائلٹس کے لائسنسز کے حوالے سے شکوک وشبہات سامنے آئے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فروری 2019 میں فیصلہ کیا گیا کہ کمپیوٹر ٹیسٹنگ کے آغاز سے لائسنسز کی فرانزک انکوائری کرالی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جعلی لائسنسز پر لائسنسگ برانچ کے 5 ملازمین کو معطل کیا۔
ناصر حسین جامی نے بتایا کہ 262 پائلٹس کے لائسنسز کے اجرا میں باقاعدگیاں پائی گئیں،پہلے ہر سال لیکن 2019 سے ٹیسٹ کی معیاد 5 سال کر دی گئی۔
علاوہ ازیں پی آئی اے حکام کی جانب سے روزویلٹ ہوٹل کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کو بریفنگ دی گئی۔
پی آئی اے کے افسر نجیب کامران نے بتایا کہ امریکا میں روزویلٹ ہوٹل کو 1978 میں لیز پر لیا تھا اور 1999 میں 36.5 ملین ڈالر میں خریدا گیا جبکہ ہوٹل 2019 تک فائدے میں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثہ: مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ہوا اس کا احتساب ہوگا، سربراہ پی آئی اے
انہوں نے بتایا کہ یہ ہوٹل اب مالی فائدہ نہیں دے گا کیونکہ عمارت بہت پرانی ہے۔
جس پر سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ سرخی لگی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہوٹل کو خریدنا چاہتے ہیں، یہ پاکستان کی قیمتی پراپرٹیز کو بیچنے کی کوشش ہے اور ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ہمیں جو دستاویزات دی گئی ہیں ان میں بتایا گیا حکومت نے 2019 نومبر سے ہوٹل روزویلٹ نجکاری کے ٹی او آرز بنا کر کام شروع کر دیا تھا اور کورونا کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس پر پی آئی اے افسر نجیب کامران نے بتایا کہ ہوٹل کو لینڈ مارک پراپرٹی قرار دیے جانے کا خطرہ ہے جس کے بعد ہم اسے بیچ نہیں سکیں گے۔
مزید پڑھیں: ‘تباہ شدہ طیارے کا آخری معائنہ 21 مارچ کو ہوا، ایک روز قبل مسقط سے آیا تھا’
سیکریٹری ہوا بازی حسن ناصر جامی نے بتایا کہ ہوٹل روز ویلٹ کی نجکاری کے لیے قائم کی گئی ٹاس فورس کو آخری کابینہ میٹنگ میں ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے اور کوئی بھی ہوٹل روز ویلٹ کو فروخت نہیں کرنا چاہتا، یہ بات واضح ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہوٹل کی معاشی پوزیشن اس وقت بہتر نہیں، 100سالہ پرانی عمارت ہے اگر فروخت کریں تو ٹیکسسز بہت زیادہ ہوں گے۔
