کچھ لوگ فضل الرحمٰن کے دھرنے پر دھاوے کے حامی تھے
پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے حوالے سے اہم انکشافات سے پردہ اٹھا دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم سب کو تاریخ سے سبق حاصل کرکے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔کچھ لوگ فضل الرحمن کے دھرنے پر دھاوے کے حامی تھے۔ چوہدری شجاعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان سے کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں تھا۔ سب ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ آپ بات کریں۔ پرویزالہٰی حکومتی کمیٹی کے ممبر نہیں تھے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ بات کریں۔ پرویز الہٰی نے عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں مشورہ دیا کہ کوئی جانی نقصان ہوگیا تو کوئی ذمہ داری نہیں لے گا۔
واضح رہے کہ جب مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں آزادی مارچ کیا تو اس دوران چوہدری پرویز الہی نے اہم کردار ادا کیا تھا، انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی اور مولانا فضل الرحمٰن کو آزادی مارچ ختم کرنے کےلیے راضی کرنے کی کوشش کی۔
جمعیت علماء اسلام ف کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے 05 نومبر 2019ء کو مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی سے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ چوہدری برادران کی کوشش تھی کہ مثبت طریقے سے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ چوہدری برادران کی کوشش تھی کہ معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کر لیا جائے۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے پر چوہدری برادران کا شکریہ ادا کیا تھا۔ پرویز الہٰی نے کہا تھا کہ مولانا کا دھرنا پر امن طور پر ختم ہونا بہتر ہے، ملک بھر کی تاجر تنظیموں اور مزدوروں نے مولانا کا ساتھ دیا۔ مولانا کے ساتھ جو چیزیں طے ہوئیں وہ بتانے والی نہیں۔ مولانا کے ساتھ انڈر اسٹینڈنگ تحریری نہیں باہمی اعتماد کی ہے۔ مولانا کے ساتھ پلان سی پر انڈر اسٹینڈنگ بتانے والی نہیں۔ پنجاب میں اس وقت بہت زیادہ مسائل ہیں، پنجاب میں ہم پی ٹی آئی کی بھرپور مدد کررہے ہیں۔
