کیا ہم آزادی کشمیر کے لئے اب صرف گانے ہیں بنایئں گے؟

کیا اب آزادی کشمیر کے لئے ہم صرف گانے ہی بنایا کریں گے؟

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک نئے ملی نغمے کی ریلیز کے بعد سے سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا پاک فوج کشمیر پر گانے ہی جاری کرتی رہے گی یا بھارتی فوج کے غاصبانہ قبضے کو ختم کروانے کے لیے کوئی عملی کوشش بھی کرے گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک نیا گانا ’جا چھوڑ دے میری وادی’ اہنی ریلیز کے بعد سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ عوامی تنقید ہے، نہ کہ تعریف۔

آئی ایس پی آر نے یہ گانا انڈیا کی جانب سے 5 اگست کو ارٹیکل 370 کے خاتمے اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لاک ڈاؤن شروع کیے جانے پر آئی ایس پی آر کے مطابق ’یوم استحصال’ کہے جانے والے دن کی مناسبت سے ریلیز کیا تاکہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرسکیں۔ اس گانے کی ریلیز پر بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اس گانے سے کشمیریوں کو کیا حاصل ہوگا؟ ایسے ہی رد عمل پر مبنی یہ گانا سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ آج آئی ایس پی آر کی حمایت میں بولنے والے ٹوئٹر ہینڈلز نے ایک اور ٹرینڈ کو ترویج دی اور پاکستان میں آئی ایم آئی ایس پی آر ٹرینڈ کرنے لگا۔ ٹیم پیٹرئیٹس آفیشل نامی ہینڈل سے ٹویٹ کی گئی کہ ‘جب پاکستان کے دفاع اور خودمختاری کی بات آتی ہے تو ہماری فورسز سب سے پہلے ہوتی ہیں لیکن کچھ منافقین بے ایمان افراد کو خوش کرنے کے لیے اپنی ہی فورسز پر تنقید کرتے ہیں۔ اس لیے ہیش ٹیگ آئی ایس پی آر ٹرینڈ کرنا شروع کریں۔’

اس پر بہت سے سوشل میڈیا ہینڈلز نے جوابی کارروائی شروع کی اور اس ہیش ٹیگ کا استعمال شروع کیا۔ مگر گانے والی بحث ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور لوگ یہ سوال کرتے نظر آرہے ہیں کہ کیا آرمی ملی نغمے جاری کر کے کشمیر کو آزاد کروانا چاہتی ہے۔ حامد فراز نامی ایک صارف نے ایک تصویر شیئر کی جو بہت سے صارفین شیئر کر رہے ہیں اس پر گانے کے بول ’جا چھوڑ دے میری وادی’ درج ہے۔ اپنے پیغام میں حامد نے لکھا کہ ’تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایک جوہری طاقت نے متنازعہ علاقہ گانا ریلیز کرکے جیتنے کی کوشش کی۔

انڈیا سے نتن سنگھ نے آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ’بھائی میں تو ڈر گیا ہوں آپ کا گانا سُن کر۔ مگر جہاں ناقدین ہیں وہاں اس کوشش کو سراہنے والے بھی بہت ہیں۔ محمد عبداللہ نے کہا کہ ‘جنگ میں ہتھیار سے زیادہ ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پینسٹھ کی جنگ میں نور جہاں کے گانے کو آج بھی سراہا جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی آئی ایس پی آر فوجیوں کا خون گرمانے کے لیے گانا ریلیز کرتے ہیں کتے اور بلیاں فوج پر بھونکنے لگتے ہیں۔’ سعد کلیم نے گانے کی وڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘میں ڈی جی آئی ایس پی آر اور آئی ایس پی آر کی پوری ٹیم کو یومِ استحصال کے موقع پر اتنا زبردست گانا بنانے اور کشمیریوں کی جدوجہد، تکلیف اور انڈین فوج کی جانب سے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالی پر روشنی ڈالنے پر داد دیتا ہوں۔’

توقیر شاہ لکھتے ہیں کہ ‘پریس ریلیز کی 181 وڈیوز کے بعد آئی ایس پی آر کے آفیشل یوٹیوب چینل پر دوسری بڑی پلے لسٹ آئی ایس پی آر گانوں کی ہے۔ مجھے نہیں پتہ تھا کا اُن کے کُل 73 گانے ہیں۔ سولجر سپیکس نامی ہینڈل جس میں صارف کا نام میجر عادل راجہ ریٹائرڈ لکھا ہے کہتے ہیں کہ ‘پاکستان نے اسلام آباد میں کشمیر ہائی وے کا نام بدل کر سرینگر ہائی وے رکھ دیا ہے۔۔۔ اور ہاں آئی ایس پی آر کے گانے اور سائین بورڈ سے فرق پڑتا ہے۔ لفظوں کی جنگ کشمیر کی آزادی کی مہم کا اہم حصہ ہے۔’

ایک انڈین صارف نے لکھا کہ ’واہ پاکستان نے یوٹیوب وڈیوز بنائی ہیں۔ سڑکوں کے نام بدلے ہیں اور کافی بار ٹویٹ کی ہے تاکہ انڈین فوج کو ہرا سکیں۔ زبردست 2-3 اور ویڈیوز یو ٹیوب پر ڈال دو انڈین فوج ہتھیار ڈال دے گی۔ پکا۔ کبھی میں سوچتا ہوں کہ آپکی فوج لڑنے کے لیے بنی تھی کہ یوٹیوب وڈیوز بنانے کے لیے۔’

صحافی نائیلہ عنایت نے طنزاً ٹویٹ کی کہ ‘بریکنگ نیوز: آئی ایس پی آر کا گانا سننے کے بعد انڈیا نے کشمیر کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟’ سیف اللہ مشتاق پاکستان فوج کے بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘بجٹ کے دستاویم سے پتا چلتا ہے کہ 21-2020 کا خرچ 1289 ارب پاکستانی روپے ہوگا۔’ اس تھریڈ میں وہ آگے کہتے ہیں کہ ‘جہاں انڈیا نے 5 رافیل جیٹس خریدے ہم نے یہ کیا اور عہد وفاء 2 پر کام کر ہے ہیں۔’

ایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ ‘پیارے آئی ایس پی آر ہم سڑکوں پر کھڑے ہو کر، انڈیا کو برا بھلا کہہ کر، گانے سُن کر اور نوافل پڑھ کر کشمیر واپس نہیں لے سکتے۔’ مبین رشید نے سوال کیا کہ ‘میں اس گانے کا کیا کروں؟ کوئی مشورہ دے سکتا ہے؟ میرے ٹیکس کا پیسہ اس پر خرچ ہوا ہے۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button