‘جی حضوری کرنےوالا نہیں، صوبےمیں امن وامان برقراررکھنےوالاافسرچاہیے’

وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نےکہا ہے کہ حکومت سندھ کو جی حضوری کرنےوالا نہیں بلکہ عوام کی خدمات اورصوبے میں امن وامان برقراررکھنےوالاافسرچاہیے۔
واضح رہے کہ آئی جی سندھ کلیم امام کے معاملےپروفاق اورسندھ حکومت کےدرمیان تناؤجاری ہےاورآئی جی سندھ پر اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتےہوئے سندھ کابینہ نے5 جنوری 2020 کوانہیں عہدےسےہٹانے اوران کی خدمات وفاق کو واپس دینےکی منظوری دے دی تھی۔ تاہم وفاق نےانہیں فوری طورپرہٹانےسےانکارکرتےہوئے کہا تھا کہ صوبائی حکومت کی درخواست زیرغورہےجس پرکسی فیصلےتک کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سےنئی تعیناتی تک سندھ ہائی کورٹ نے بھی آئی جی سندھ کوہٹانےسےروک دیا تھا۔
جمعہ کوخیرپورمیں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئےوزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیس نے بہت قربانیاں دی ہیں اوران قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانےدینا چاہیے، اس صوبےکی منتخب سیاسی حکومت کی پالیسیاں لوگوں کی بہتری کےلیےہی ہوں گی کیونکہ ہم عوام کےنمائندے ہیں اورپولیس افسران ان کےخادم ہیں۔ رانی پورمیں ایک کروڑ کی ڈکیتی اوربدامنی کےحوالےسےسوال پرانہوں نےکہا کہ پولیس کی وجہ سےرانی پورسمیت چند اضلاع میں بدامنی کا ماحول پیدا ہوا ہےاوراس بدامنی کے ماحول کی وجہ سے ہی کابینہ نے متفقہ طورپرفیصلہ کیا تھا کہ اس کا حل یہی ہے کہ آئی جی سندھ کو تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے صوبےاورملک میں امن و امان کے قیام کے لیے جو جانیں دی ہیں، انہیں ہم چند نااہل افسران کی وجہ سے رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیں جی حضوری کرنے والا بندہ نہیں بلکہ وہ آدمی چاہیے جو صوبے میں امن و امان برقراررکھ سکے اور صوبے کےعوام کی خدمت کرسکےکیونکہ وہ خادم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نااہل افسران کو بچایا جائے گا تو نقص امن کی صورتحال پیدا ہو گی اوراگر نااہل افسران اپنی نااہلی چھپانے کے لیے عوامی نمائندوں پربھونڈے الزام عائد کریں گےتو یہ عوام کی تذلیل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عوامی نمائندے ہیں، عوام کی بہتری کو مدنظررکھتےہوئےپالیسی لاتےہیں اور اس پالیسی پر ہر سرکاری ملازم اور خادم کوعمل کرنا پڑے گا۔
آئی جی سندھ کےمعاملے پروفاقی و صوبائی حکومت میں تناؤ
واضح رہے کہ آئی جی سندھ کلیم امام کے معاملے پر وفاق اورسندھ حکومت کے درمیان تناؤ جاری ہے اورآئی جی سندھ پر اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سندھ کابینہ نے15جنوری 2020 کو انہیں عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کوواپس دینے کی منظوری دے دی تھی۔ صوبائی حکومت کی جانب سےآئی جی سندھ پرسنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتےہوئےکہا گیا تھا کہ ان کے دورمیں صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی اورساتھ ساتھ سندھ پولیس کےسربراہ پرحکومت کے احکامات نہ ماننے کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔
اس بارے میں ایک عہدیدارنےڈان کوبتایا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےوزیراعظم کوجمعرات کی شام ایک خط بھیجا جس میں انہوں نےآئی جی سندھ کےلیےغلام قادرتھیبو، مشتاق احمد مہراورڈاکٹر کامران کےنام تجویزکیےتھے۔ تاہم وفاقی حکومت نےصوبائی حکومت کی درخواست پر آئی جی سندھ کو فوری ہٹانےسےانکارکرتےہوئے کہا تھا کہ صوبائی حکومت کی درخواست زیرغورہےجس پرسی فیصلے تک کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے۔ بعد میں سماجی کارکن جبران ناصرنےحکومت سندھ کی جانب سےآئی جی سندھ کلیم امام کو ہٹانےکےنوٹیفکیشن کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا تھا جس پر سندھ ہائی کورٹ نےوفاقی حکومت کا جواب آنے تک صوبے کےانسپکٹر جنرل پولیس کو ہٹانے سےروک دیا تھا۔
