کیا نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک چلے جائیں گے؟
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صحت کی تشویشناک صورتحال کے پیشِ نظر انہیں علاج کیلئے بیرون ملک بھجوانے کی کوششوں میں مصروف شہبازشریف نے اپنے بڑے بھائی کی طبی بنیادوں پرضمانت پر رہائی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی جسے ہنگامی سماعت کیلئے مقرر کر لیا گیا ہے۔ شہباز شریف کی طرف سے درخواست دائر ہونے کے فورا بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا نواز شریف پاکستانی سیاسی تاریخ کے اس نازک موڑ پر ملک چھوڑ کر ایک مرتبہ پھر پھر باہر چلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے مقتدر حلقوں سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی درخواست ضمانت دائر کی ہے۔ تاہم میاں نواز شریف کے قریبی افراد کہتے ہیں کہ میاں صاحب تاریخ کے اس نازک موڑ پر کسی صورت بھی ملک سے باہر جانے کے لیے تیار نہیں۔ وہ اپنا سب کچھ کھونے کے بعد پاکستان میں ہی مرنا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا ہےکہ نواز شریف کی صحت شدید خراب ہے، وہ متعدد بیماریوں کی وجہ سے بہت تکلیف میں ہیں لہٰذا انہیں پاکستان یا بیرون ملک علاج کی اجازت دی جائے۔ درخواست میں نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سنائی گئی سزا بھی معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف کی سزا معطلی کیلئے شہبازشریف کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا اور کہا کہ درخواست گزار شہبازشریف متاثرہ فریق نہیں۔ تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف کی طبی بنیادوں پرسزا معطلی کی درخواست کو اعتراض کے ساتھ ہنگامی سماعت کیلئے مقرر کرلیا ہے جس کے بعد جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی آج ہی درخواست پر سماعت کریں گے۔
ملک کے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں میں اگر نواز شریف علاج کی غرض سے بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں تو اس سے برسرِ اقتدار تحریک انصاف کو زبردست سیاسی فائدہ حاصل ہوگا اور ساتھ ہی اسٹیبلشمنٹ کی مشکلات میں بھی واضح کمی آ جائے گی کیونکہ ظاہری طور پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی صفحے پر ہیں اور انہیں ایک دوسرے کا اتحادی خیال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اگر حکومت کے لیے کوئی مشکل پیدا ہوتی ہے تو اسی مشکل کا سامنا اسٹیبلشمنٹ کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ تاہم دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں میاں نواز شریف کی بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے مخمصے کا شکار ہیں۔ اپوزیشن کے سبھی قائدین کو میاں نواز شریف کی بگڑتی ہوئی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں تاہم وہ اس حقیقت کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اگر میاں نواز شریف علاج کے لیے پاکستان سے باہر چلے گئے تو حزبِ اختلاف کا نوزائیدہ اتحاد پارہ پارہ ہوجائے گا۔ بالخصوص موجودہ سیاسی صورتحال میں جب مولانا فضل الرحمن ایک بڑی احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ شروع کر رہے ہیں، میاں نوازشریف کی بیرونِ ملک منتقلی کے نتیجے میں اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی اور تحریک انصاف کا راستہ روکنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف چوہدری شوگر مل کیس میں نیب کی حراست میں ہیں جب کہ احتساب عدالت کی جانب سے انہیں العزیزیہ ریفرنس میں7 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
