چین سنکیانگ سے متعلق خبروں کو کیسے کنٹرول کر رہا ہے؟

چین کے مغربی صوبے سنکیانگ کے بارے میں مصدقہ خبریں پہنچانے کی کوشش کرنے والے غیر ملکی صحافیوں پر پہلے سے عائد سخت پابندیوں میں اب چین نے ایک اور پابندی کا اضافہ کیا ہے، جس میں آزادانہ کوریج کو ’فیک نیوز‘ کہا جا رہا ہے۔
سنکیانگ کی خالی شاہراؤں پر رات کے اوقات میں گھنٹوں سفر کرتے ہوئے، ہمارے پہنچنے کے لمحے سے ہی جو غیر سرکاری کاریں ہمارا پیچھا کر رہیں تھیں، ان کی رفتار تیز اور وہ خطرناک حد تک قریب آ گئیں، ان گاڑیوں کی ہیڈلائٹس پوری طرح روشن تھیں۔
ان کاروں میں سوار افراد، جنھوں نے کبھی اپنی شناخت ظاہر نہیں کی، ہر جگہ ہمارا تعاقب کرتے۔ انھوں نے ریستورانوں اور دکانوں کے مالکان سے کہا کہ وہ ہمیں سروس فراہم نہ کریں۔ یوں انھوں نے ہمیں شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ان مشکلات کے باوجود ہم نے جو رپورٹ تیار کی ہے اس میں نئے شواہد موجود ہیں۔ اس میں زیادہ تر حصہ چین کی اپنی پالیسی دستاویزات پر مبنی ہے۔
ہمیں نئے شواہد ملے ہیں کہ کپاس کی عالمی پیداوار کا پانچواں حصہ پیدا کرنے والے اس خطے میں ہزاروں ایغور اور دیگر اقلیتوں کو کپاس چننے پر مجبور کیا جارہا ہے۔لیکن چینی کمیونسٹ پارٹی کے ذریعے چلائے جانے والے ایک اخبار نے ہماری کوریج پر ایک رپورٹ تیار کی، جس میں یہ الزام عائد کیے گئے کہ بی بی سی نے چینی حکام سے متعلق بڑھا چڑھا کر خبریں نشر کیں کہ وہ انھیں پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے روک رہے ہیں۔چینی میڈیا نے اپنی اس رپورٹ میں ہماری کوریج کو ’جعلی خبریں‘ پر مبنی قرار دیا۔
چائنہ ڈیلی نامی انگریزی زبان کے ایک اخبار کی جانب سے بنائی گئی یہ ویڈیو چینی سوشل میڈیا سائٹس کے ساتھ ساتھ ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی شائع کی گئ ہے جن پر چین میں پابندی عائد ہے۔آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹٹیوٹ میں چین کے ڈیجیٹل ڈس انفارمیشن کی ماہر ہانا بیلی نے بتایا کہ انگریزی میں چینی ترجمے کے ساتھ اس طرح کے حملے اس سارے معاملے کو غیر معمولی بنا دیتی ہے۔
ہانا بیلی نے کہا ’یہ واضح ہے کہ اسے بین الاقوامی اور مقامی سامعین کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا، جو کسی حد تک پچھلی حکمت عملیوں سے مختلف ہے کیونکہ صرف چینی سامعین کے لیے تیار کردہ پچھلا مواد مغربی ممالک پر زیادہ تنقید اور قوم پرستی سے بھر پور تھا جبکہ بین الاقوامی سامعین کے لیے تیار کردہ مواد میں مفاہمتی لہجہ اپنایا گیا ہے۔‘چینی اخبار کی اس رپورٹ میں کوچے شہر میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری کے سامنے گیٹ کے باہر ہونے والی زبانی تکرار کو زیادہ نمایاں کوریج دی گئی۔یہ وہی جگہ ہے جہاں منیجروں اور مقامی عہدیداروں کے ایک گروپ نے بی بی سی کی ٹیم کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
اس رپورٹ میں شامل یہ الزامات موقع پر پہنچنے والی پولیس کے باڈی کیمرا ریکارڈنگ پر مبنی ہیں، جو آسانی سے غلط ثابت کی جا سکتی ہیں۔اور ہماری ٹیم اور پولیس افسر کے مابین شائستہ تکرار سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بی بی سی نے رپورٹنگ سے روکنے والے حکام کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔لیکن اس ویڈیو میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہماری کچھ فوٹیج زبردستی حذف کر دی گئی تھی اور ہمیں اسی پولیس افسر کے ساتھ کسی اور جگہ جانے پر مجبور کیا گیا تاکہ وہ باقی تصاویر کا جائزہ لے سکیں۔
چینی رپورٹ میں مزید کوئی وضاحت فراہم نہیں کی گئی اور بی بی سی کو اس پر کوئی ردعمل ظاہر کرنے کا حق بھی نہیں دیا گیا۔سنکیانگ میں 72 گھنٹوں سے بھی کم دورانیے میں، ہمارا مستقل تعاقب کیا گیا اور پانچ علیحدہ مواقع پر لوگوں نے ہمیں روکا۔ انھوں نے کئی بار ہم پر تشدد کرکے فلمبندی سے روکنے کی کوشش کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button