شاہی جوڑے کی آمد پر برطانوی ہائی کمیشن کی بدانتظامیاں
برطانوی شاہی جوڑا رکشے پر سوار ہوکر پاکستان مانومنٹ اسلام آباد پہنچا۔ تاہم ان سے ملاقات کے خواہشمند چند وفاقی وزرا اور مشیر نے رکشے میں بیٹھنے سے انکار کردیا۔ بعض وزرا کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر شاہی جوڑے کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
پاکستان کے دورے پر آئے برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن کے پاکستان مانومنٹ اسلام آباد آمد کے موقع پر بدنظمی دیکھنے میں آئی، جب موقع پر کیےگئے ‘سخت سکیورٹی انتظامات’ کے باعث نصف درجن کے قریب وزرا اور مشیر شاہی جوڑے سے ملنے کی اپنی خواہش دل میں ہی لیے اس تقریب سے رخصت ہوئے۔ ان وزرا اور مشیران میں وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد حسین، وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نعیم الحق اور مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان شامل ہیں۔ ان نصف درجن وزرا اور مشیران میں سے دو نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کو تصدیق کی کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں شاہی جوڑے کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وزیر اعظم کے ایک مشیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ برطانوی سکیورٹی حکام کی طرف سے اس موقع پر کیےگئے انتظامات ‘بہت احمقانہ’ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے اراکین کو شاہی جوڑے سے ملنے کی اجازت نہ دینا ‘توہین آمیز تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اس حوالے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے تو ان کا کہنا تھا ‘وزارت خارجہ اس حوالے سے برطانوی حکام سے شکایت کرے گی۔
دوسری جانب ایک وفاقی وزیر نے بھی تصدیق کی کہ وزرا کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر شاہی جوڑے سے ملنے نہیں دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ شاہی جوڑے سمیت تقریب میں موجود تمام افراد برطانوی ہائی کمیشن کے مہمان تھے اور دعوت نامے بھی ہائی کمیشن ہی کی جانب سے جاری کیے گئے تھے۔جو دعوت نامہ ملا تھا اس پر پروگرام کے حوالے سے کسی قسم کی تفصیلات درج نہیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب دو وزرا بشمول غلام سرور خان کو ہائی کمیشن کے عملے کی جانب سے کہا گیا کہ وہ استقبالیے تک رکشے میں آئیں تو انہوں نے رکشے میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور واپس چلے گئے۔ جب کہ چند دیگر وزرا نے بھی رکشے میں بیٹھنے سے انکار کیا اور اپنی اپنی گاڑیوں میں مانومنٹ پہنچے۔ جب ہم مانومنٹ پہنچے تو پتا چلا کہ علیحدہ علیحدہ انتظامات کیےگئے تھے۔ چند وزرا کو جب علیحدہ انتظامات کا پتا چلا تو وہ تقریب چھوڑ کر واپس آ گئے۔
سینئر صحافی حامد میر بھی اس تقریب میں مدعو تھے انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ‘ہم میں سے زیادہ تر لوگ رکشہ کے ذریعے مانومنٹ پہنچے ماسوائے چند سینیئر بیوروکریٹس اور وزرا کے جو اپنے آپ کو وی آئی پی سمجھتے ہیں۔۔۔’
وفاقی وزیر کے مطابق دیگر وزرا کے برعکس وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات تقریب کے اس حصے میں پہچنے میں کامیاب ہوگئیں جہاں شاہی جوڑا موجود تھا۔ اس موقع پر برٹش گارڈز نے انہیں اس مخصوص جگہ سے باہر نکال دیا جہاں شاہی جوڑا موجود تھا۔ جس کے بعد وہ وہیں سے واپس روانہ ہوگئیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس تقریب کے تمام تر انتظامات بدنظمی کا شکار تھے جس میں مدعو کیے گئے مہمانوں کو ایک الگ جگہ کھڑے ہونے کا کہا گیا کیونکہ بیٹھنے کے لیے کرسیوں کا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ شاہی جوڑے کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے برٹش رائل گارڈ بھی ان کے ہمراہ پاکستان آئے ہیں۔
میڈیا نمائندے بھی اس تقریب میں شریک تھے۔ میڈیا نمائندگان کو تقریب کے شرکا کے ساتھ ملنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔ میڈیا کو صرف اس جگہ تک رکھا گیا جہاں تقریب میں مدعو افراد نے استقبالیے تک آنا تھا۔ بلکہ اس کو استقبالیہ بھی نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ اس جگہ تک بھی پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے علاوہ صرف دو نجی چینلوں کو کیمرے رکھنے کی اجازت دی گئی، باقی میڈیا کو اس جگہ کھڑا کیاگیا جہاں سے پاکستان سے تعلق رکھنے والے مہمان تشریف لارہے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ مرکزی تقریب تک جانے کی اجازت نہیں تھی اس لیے وہ جلد ہی تقریب سے واپس آ گئے تھے۔
