گندم بحران پر وزیرخوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری مستعفی ہوگئے
ایف آئی اے کی جانب سے آٹا و چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ جاری ہونے کے بعد وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری نے استعفیٰ دے دیا۔
صوبائی وزیرخوراک نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ استعفے میں انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ‘مجھ پر الزام ہےکہ میں محکمے میں ریفارمز نہیں کرسکا لہٰذا جب تک الزامات کلیئر نہیں ہوتے حکومتی عہدہ نہیں لوں گا’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان کے ایجنڈے کی تکمیل کےلیے ایسی ہزاروں وزارتیں قربان کرنے کو تیار ہوں’۔ انہوں نے لکھا کہ چند روزقبل محکمے میں اصلاحات نہ کرنے سے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے گئے لہٰذا رضاکارانہ طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ انہوں نے استعفے میں مزید کہا کہ ہر فورم پر خود کو احتساب کےلیے پیش کرنے کو تیار ہوں۔
وزیراعلیٰ پنجاب @UsmanAKBuzdar کے اہم فیصلے
▪ صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری کا استعفیٰ منظور کر لیا
▪ کمشنر ڈیرہ غازی خان و سابقہ سیکرٹری خوراک نسیم صادق کی عہدے سے علیحدگی کی درخواست قبول کرتے ہوئے OSD بنا دیا گیا
▪ سابق ڈائریکٹر خوراک ظفر اقبال کو OSD بنا دیا گیا— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) April 6, 2020
بعدازاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبائی وزیر خوراک کا استعفیٰ منظور کرلیا جبکہ کمشنر ڈیرہ غازی خان و سابقہ سیکرٹری خوراک نسیم صادق کی عہدے سے علیحدگی کی درخواست بھی قبول کرتے ہوئے انہیں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) بنادیا گیا۔
واضح رہے کہ نسیم صادق گندم بحران کے دنوں میں سیکرٹری خوراک تھے اور اس وقت کمشنر ڈیرہ غازی خان کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
خیال رہے کہ 4 اپریل کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے آٹا و چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائی گئی تھی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک میں چینی بحران کاسب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی آٹا بحران کی اہم وجہ رہی۔
