شہباز فیملی کیخلاف دو مزید گواہ تیار

نیب کے زیر حراست دو وعدہ معاف گواہوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا۔
نیب سے جاری بیان کے مطابق ملزمان آفتاب محمود اور شاہد رفیق کو ضلع کچہری لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ ذوالفقار باری کے روبرو پیش کیا گیا جہاں انہوں نے شہباز شریف فیملی کے خلاف اپنے بیانات قلمبند کرائے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ شہباز شریف اور ان کے بیٹوں کی ایما پر پاکستان میں 24 لاکھ ڈالر سے زائد رقم ٹی ٹی کے ذریعے ٹرانسفر کی گئی۔
واضح رہے کہ حمزہ شہباز اور ان کے بھائی سلمان شہباز کے خلاف مشتاق چینی پہلے ہی وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں۔
نیب نے آفتاب محمود کو گرفتار کرتے وقت انہیں شہباز فیملی کا فرنٹ مین قرار دیا تھا۔
آفتاب محمود نے اقرار کیا کہ اس نے برطانیہ میں عثمان انٹرنیشنل نامی کمپنی سے رقوم شریف فیملی کو منتقل کیں۔
زیر حراست ملزم کا کہنا تھا کہ ’جعلی شناخت کے ذریعے حمزہ شہباز، سلمان شہباز، نصرت شہباز اور رابعہ عمران علی کے بینک اکاؤنٹس میں ٹی ٹی کے ذریعے رقوم منتقل کی گئیں‘۔
علاوہ ازیں آفتاب محمود نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے کزن شاہد رفیق کے ساتھ مل کر ٹی ٹیز کی مد میں رقم موصول کرتا تھا۔
اعترافی بیان میں آفتاب محمود نے بتایا کہ برطانیہ کی دیگر کمپنیوں سے بھی شریف فیملیز کو بھاری رقوم منتقل کیں تاہم حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو بارکلے اور ایچ ایس بی سی بینک سے بھی رقوم منتقل کی گئیں۔
نیب سے جاری دستاویزات کے مطابق ٹی ٹی کے ذریعے رقوم کی منتقلی کالے دھند کو سفید کرنا تھا جس سے فائدہ حاصل کرنے والے افراد میں حمزہ شہباز، سلمان شہباز، نصرت شہباز اور رابعہ عمران علی شامل تھے۔

نیب کے مطابق دوسرے وعدہ معاف گواہ شاہد رفیق نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ ’میں سلمان شہباز کے دفتر سے رقوم لے کر بیرون ملک منتقل کرتا تھا‘۔
شاہد رفیق نے اقرار کیا کہ ’وہ اپنے کزن آفتاب محمود کے ساتھ مل کر جعلی شناخت کے ذریعے رقوم کی منتقلی کرتا تھا‘۔
انہوں نے بتایا کہ ’میرے پاس میسرز زارکو ایکسچینج اور ٹرپل اے کی فرنچائز تھیں جس سے رقوم منتقل کی جاتی تھیں‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button