اگلا ڈیڈلاک الیکشن کمشنر کی تقرری پر ہو گا

ابھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دو ارکان کی تقرری پر حکومت اور چیف الیکشن کمشنر کے مابین ڈیڈلاک ختم ہوتا نظر نہیں آتا اور ایک اور ڈیڈلاک حکومت کے انتظار میں ہے جو کہ دسمبر میں اپوزیشن کے ساتھ اگلے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملہ پر پڑے گا۔ جسٹس ریٹائرڈ سردار محمد رضا 5 دسمبر کو ریٹائر ہوجائیں گے۔ حکمران اتحاد اور حزب اختلاف کی جماعتیں دونوں کیلئے پانچ سالہ مدت کیلئے نئے چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب نازک مرحلہ ہوگا جیسا کہ وہ 2023 کے عام انتخابات کی نگرانی کریں گے۔اس تقرری کیلئے دونوں فریقین کی رضامندی ضروری ہے کیونکہ کوئی ایک فریق بھی دوسرے پر اپنا انتخاب نہیں تھوپ سکتا۔
قانونی ماہرین اشارہ دیتے ہیں کہ ای سی پی کا کوئی بھی رکن قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے فرائض سرانجام نہیں دے سکتا اگر ریٹائرڈ عہدیدار کی جگہ کسی کا بھی انتخاب نہیں کیا جاتا۔اگر ان کی ریٹائرمنٹ سے قبل اس اسامی کو پُر نہیں کیا جاتا تو سپریم کورٹ کے کسی جج کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر نامزد کردیا جائے گا۔ اس حوالے سے ماہرین نے آرٹیکل 217 کا بھی حوالہ دیا۔
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے آئینی طریقہ کار کی بھی پیروی کی جائے گی جس کا اطلاق ای سی پی ارکان کے انتخاب کیلئے نہیں کیا گیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ جب وزیر اعظم عمران خان اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کسی معاہدے تک نہیں پہنچے اور دو فریقی پارلیمانی کمیٹی بھی سیاسی اختلاف کے باعث حل نکالنے میں ناکام رہی تو نئے چیف الیکشن کمشنر کی نامزدگی کے معاملے میں بھی کوئی مختلف نتیجہ نہیں ہوگا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود ای سی پی ارکان کے انتخاب کے معاملے جیسا ڈیڈلاک چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں بھی نظر آئے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دو ای سی پی ارکان سے متعلق موجود درخواستوں سے نمٹتے ہوئے موجودہ تعطل کو ختم کرنے کی غرض سے آئین کی تشریح کے ذریعےاعلیٰ عدالتیں بھی تعطل کی صورت میں چیف الیکشن کمشنر کی نامزدگی کیلئے راستہ فراہم کرسکتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اور پارلیمانی کمیٹی میں مکمل تعطل ہو تو مزید کارروائی کیسے آگے بڑھے گی اور چیف الیکشن کمشنر اور ای سی پی ارکان کا تقرر کیسے ہوگا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button