قاضی فائز عیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس کیوں فائل کیا گیا؟
قاضی فائز عیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس کیوں فائل ہوا؟۔۔۔۔عدلیہ کی آزادی کو تباہ کرنے اور مجھے خاموش کرانے کیلئے صدارتی ریفرنس فائل کیا گیا، مذموم ایجنڈے کی تکمیل اور جھوٹ کو ہوا دینے کی خاطر ایسے بے بنیاد الزامات کو استعمال کیا جاتا ہے۔ عدالت میں جمع کرائے گئے جواب الجواب میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کی زیر ملکیت جائیدادوں کی منی ٹریل دینے کے پابند نہیں۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائے گی اپنے جواب الجواب میں ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ اور بچے ان کی زیر کفالت نہیں اس لئے انھیں اپنے اہل خانہ کے مالی معاملات کے متعلق تفصیلات کا علم نہیں بالکل اسی طرح جیسے ان کے اہل خانہ ان کے مالی معاملات کے متعلق نہیں جانتے۔ اس لئے انہیں اپنے اہل خانہ کی زیر ملکیت جائیدادوں کی تفصیل سے آگاہ کرنے کا نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی اس حوالے سے ان پر بے نامی جائیداد کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ ان کی اہلیہ اور بچے کسی بیش قیمت جائیداد کے مالک ہیں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے الزامات دہرانے کا مقصد ان کی عوامی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے یہ وفاق کا اپنا کیس ہے کہ پہلی جائیداد 2004 میں دو لاکھ 36 ہزار پاؤنڈ اس وقت کے دو کروڑ ساٹھ لاکھ روپے اور دیگر دو جائیدادیں 2013 میں بالترتیب 2 لاکھ 45 ہزار اور دو لاکھ ستر ہزار پاونڈ میں خریدی گئیں۔ ان تمام جائیدادوں کی مالیت مل کر بھی اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے پوش علاقوں میں ایک کنال یا 500 مربع گز کے گھر سے کم ہے۔ ان کی زیر ملکیت تمام جائیداد پاکستان میں ہے جسے وہ پہلے ہی ظاہر کر چکے ہیں، لندن یا بیرون ملک کسی مقام پران کی کوئی جائیداد نہیں۔
جواب الجواب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس الزام کی بھی نفی کی ہے کہ انکی اہلیہ کی دہری شناخت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہسپانوی اورانگریزی زبانوں میں ان کی اہلیہ کے نام کے ہجے اور تلفظ مختلف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کی پاکستانی اور ہسپانوی دستاویزات میں فرق ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس الزام کو بھی غلط قرار دیا ہے کہ جائیداد کی خریداری کے وقت ان کے بچوں کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھا ان کا کہنا تھا ان کی بیٹی اور بیٹا 2013 میں شادی شدہ تھے ان کی بیٹی برطانیہ میں ایک لاء فرم میں کام کرتی تھیں جبکہ ان کا داماد بھی بیرسٹر تھا، اس طرح ان کا بیٹا بھی اسٹیٹ ایجنسی میں ملازم جبکہ بہو ایکٹویٹی فرم میں اینلسٹ تھی۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا کہ اگر اہلیہ اور ان کی دستاویزات کو پبلک کیا جا سکتا ہے تو حکومت/ایف بی آر کووزیراعظم کے انکم ٹیکس اورویلتھ ٹیکس کے معاملات خفیہ رکھنے کے لیے بھی استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے اہل خانہ کی جائیداد سے متعلق دستاویزات حکومت سے شئیر کرنے والے شخص پر بھی سوالات اٹھائے ہیں انھوں نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ریفرنس پر سماعت کے دوران مسٹر ڈوگر کو ایک بار بھی طلب کیا نہ ان سے جرح کی جبکہ اس دوران ان سے جواب طلب کیا گیا بلکہ شوکاز نوٹس پر بھی جواب مانگا گیا۔ وفاق نے بھی مسٹر ڈوگر کی اصلیت ظاہر نہیں کی اور ان کے متعلق معلومات چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی کیونکہ حقیقت آشکار ہونے سے اعلیٰ عہدیداروں کو خفت کا سامنا کرنا پڑتا جو اس عظیم ملک کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جہاں مذموم ایجنڈے کی تکمیل اور جھوٹ کو ہوا دینے کی خاطر ایسے کرداروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے مزید کہا ہے کہ صدارتی ریفرنس کا مقصدججوں کی عیب جوئی، انکو خاموش کرانا اور عدلیہ کی آزادی کو تباہ کرنا ہے
